این ڈی ایم اے کا انتباہ
این ڈی ایم اے نے رواں ہفتے سے پانچ اگست تک‘ مون سون کے نئے سلسلے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈ‘ لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اگرچہ متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت وارننگ ایک مثبت اقدام ہے تاہم اصل ضرورت عملی اقدامات کی ہے۔پنجاب میں پہلے ہی ضلع شیخوپورہ‘ نارووال اور سیالکوٹ میں برساتی نالوں کے بپھرنے سے سینکڑوں دیہات زیرِ آب آ چکے اور ہزاروں ایکڑ فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ تقریباً ہر سال سیلاب سے متاثر ہونے کے باوجود ہمارے ہاں آج بھی آفات سے قبل تیاری‘ خطرات کی روک تھام اور بنیادی انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی اشد ضرورت ہے۔

اگر برساتی نالوں کی بروقت نگرانی کی جاتی‘ انکے کمزور پشتوں کی مرمت کی جاتی اور پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی تعمیرات کو پہلے ہی ہٹا دیا جاتا تو موجودہ نقصان کی شدت یقینا کم کی جا سکتی تھی۔ این ڈی ایم اے کے تازہ انتباہ کے پیشِ نظر صوبائی حکومتوں کو نہ صرف برساتی نالوں کے حفاظتی بند مضبوط کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے بلکہ شہری علاقوں کو اربن فلڈنگ سے بچانے کیلئے بھی ڈرینج سسٹم اور سیوریج لائنوں کی ہنگامی صفائی‘ نکاسی آب کے پمپنگ سٹیشنوں کو مکمل فعال رکھنا‘ حساس نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی‘ ریسکیو اداروں کی پیشگی تعیناتی‘ جدید وارننگ سسٹم کا مؤثر استعمال جیسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔