اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ریبیز: حکومتی غفلت کب تک

گزشتہ روز لاہور میں ریبیز سے متاثرہ ایک اور شہری جان کی بازی ہار گیا۔ پچھلے ایک مہینے کے دوران صوبائی دارالحکومت میں آوارہ کتے کے کاٹنے کے باعث تین افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ملک میں لاکھوں کی تعداد میں آوارہ کتوں کے باعث ریبیز کا خطرہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ رواں برس اپریل میں لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2024ء سے مارچ 2026ء تک پنجاب بھر میں 514589 افراد کتے کے کاٹنے کا شکار ہوئے جبکہ صرف لاہور میں 18054کیس رپورٹ ہوئے۔ اتنے خطرناک حالات کے باوجود حکومتی سطح پر وہ سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی جس کی یہ صورتحال متقاضی ہے۔ شہروں اور دیہی علاقوں میں آوارہ کتوں کی آبادی پر مؤثر کنٹرول کیلئے کوئی منظم اور مستقل مہم نظر نہیں آتی۔

دوسری جانب متعدد سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی عدم دستیابی بھی متاثرہ افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ریبیزکی علامات ظاہر ہونے کے بعد بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں‘ اس لیے بروقت علاج ہی واحد مؤثر دفاع ہے۔ ضروری ہے کہ آوارہ کتوں کی رجسٹریشن‘ ویکسی نیشن اور افزائشِ نسل پر قابو پانے کے پروگرام بلاتاخیر شروع کیے جائیں۔ اس کیساتھ تمام ضلعی اور تحصیل ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں