اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

آبنائے ہرمز کی بندش، اثرا ت اور خدشات

دنیا میں توانائی کی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان میں معاہدہ اور خلیج فارس کی تنگنائے کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق عالمی امن و استحکام کے تناظر میں ایک مثبت پیشرفت ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق فریقین میں آبنائے ہرمز کو عارضی انتظام کے تحت 60 روز کیلئے کھولنے پر اتفاق ہوا ہے۔ عبوری انتظام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی جائے گی اور فریقین 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کے مرکزی راستے سے بارودی سرنگوں کو ہٹائیں گے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی رسد کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے۔ کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر اور عراق سے تیل و گیس برآمد کرنے کا یہ واحد بحری راستہ ہے۔ سعودی عرب کی بڑی آئل ریفائنریاں اور تیل ذخائر بھی مشرقی خطے (الشرقیہ) میں خلیج فارس کیساتھ واقع ہیں۔ اس طرح یہ دنیا بھر کی کل پٹرولیم رسد کے تقریباً 20 فیصد اور بحری توانائی رسد کے ایک تہائی حصے کی واحد گزرگاہ ہے۔ خلیجی ممالک خصوصاً قطر سے ایل این جی بھی اسی راستے کے ذریعے دنیا کو سپلائی ہوتی۔28 فروری کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کے مشترکہ حملے سے قبل یہاں سے اوسطاً ہر روز 140 سے 150 مال بردار بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے تھے مگر خلیج فارس میں کشیدگی کے باعث نہ صرف یہ گزرگاہ غیر محفوظ ہو گئی بلکہ متحارب ملکوں کی جانب سے اس کی ناکہ بندی نے دنیا میں توانائی کے ایسے بحران کو جنم دیا جس نے گلوبل اکانومی کو ہلا کر رکھ دیا۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ نے اس بحران کو 1970ء کے عشرے کے آئل شاکس اور 2022ء میں یوکرین جنگ کے باعث یورپ میں گیس بحران کے مجموعی اثرات سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا۔ نہ صرف خام تیل کی قیمتوں میں 50 سے 60 فیصد تک اضافہ ہوا بلکہ مال برداری‘ شپنگ اور انشورنس پریمیم کے اخراجات بھی کئی گنا تک بڑھ گئے‘ جس کے اثرات لامحالہ پوری دنیا پر مرتب ہوئے اور کمزور معیشتوں کو ان عالمی جھٹکوں کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ چونکہ دنیا میں نائٹروجن اور سلفر پر مبنی کھادوں کی بحری رسد کا ایک تہائی بھی اسی آبنائے سے گزرتا ہے‘ لہٰذا فوڈ سکیورٹی کے مسائل بھی جنم لینے لگے۔ عالمی ادارۂ خوراک و زراعت خبردار کر چکا کہ کھاد مہنگی ہونے اور اس کی قلت کے اثرات رواں سال کے آخر اور آئندہ سال گندم‘ چاول اور مکئی کی کم پیداوار کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اور سماج پر آبنائے ہرمز کی بندش کے جو اثرات ہیں وہ ظاہر و باہر ہیں۔ وسط فروری سے اب تک پٹرول کی قیمت میں 70 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 110 روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس سے عام آدمی کی قوتِ خرید بالکل جواب دے چکی ہے۔ افراطِ زر کی شرح‘ جو فروری میں سات فیصد تھی‘ اب 9.2 فیصد پہ پہنچ چکی ہے۔

ربڑ‘ پلاسٹک اور دیگر پیٹرو کیمیکلز کی درآمدات متاثر ہونے سے صنعتی و پیدواری شعبے پر جو اثرات پڑے ہیں‘ وہ الگ معاملہ ہے۔ اگرچہ دنیا بالخصوص کمزور معیشتوں کے حامل ممالک آبنائے ہرمز کی بندش کی بھاری قیمت چکا رہے لیکن اگر یہ معاملہ طول پکڑتا ہے تو پوری دنیا ایسے بحران کا شکار ہو سکتی ہے‘ جس سے اثرات سے نکلنے کیلئے کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ لہٰذا ان حالات میں یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستان‘ قطر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں سے عمان اور ایران کا نہ صرف آبنائے ہرمز کی بحالی کیلئے ایک فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے بلکہ فریقین نے اس تنگنائے سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی تردید کی گئی تاہم امید ہے کہ اب جبکہ اس کارِ خیر کیلئے کمرِ ہمت باندھ لی گئی ہے‘ آبنائے ہرمز کی بندش کا مکمل خاتمہ بھی جلد ہو جائے گا۔ اس سے یہ بھی اجاگر ہوتا ہے کہ امن اور مذاکرات کا راستہ خواہ کتنا ہی پیچیدہ اور دشوار ہو‘ مگر انسانیت کے مفاد کی یہی واحد صورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں