مہنگائی‘مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت
وفاقی ادارۂ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق چھ اگست کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 9.29 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگی ہونے والی اشیا میں پیاز‘ دال چنا‘ سرخ مرچ‘ چائے پتی‘ آٹا اور خوردنی تیل سمیت متعدد بنیادی اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جن کے باعث زرعی اور صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس کا براہِ راست اثر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ دوسری وجہ منافع خور عناصر ہیں جو صارفین سے من چاہے دام وصول کرتے ہیں۔

تیسری وجہ عوام کی کمزور معاشی سکت ہے جس کے باعث قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کیلئے شدید معاشی مشکلات کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال محض نمائشی اقدامات یا وقتی ریلیف پیکیجوں سے قابو میں نہیں آئے گی۔ حکومت کو توانائی کی قیمتوں میں کمی کیلئے عملی اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی طرح منافع خوروں کیخلاف بلاامتیاز کارروائی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ کمزور معاشی طبقے کا استحصال روکا جا سکے۔ ساتھ ہی آمدنی میں اضافے اور سماجی تحفظ کے مؤثر پروگراموں کے ذریعے عوام کی قوتِ خرید بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔