مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے اس عزم کا عکاس ہے کہ وہ اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کریں گے اور محفوظ و خوشحال مستقبل کیلئے خطے اور اس سے باہر امن‘ سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں گے۔ مشترکہ تزویراتی مفادات اور دفاعی تعاون پر مبنی یہ معاہدہ تینوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات‘ پائیدار برادرانہ روابط اور یکجہتی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کی اپنی اپنی دفاعی‘ علاقائی اور عالمی خصوصیات ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے‘ ترکیہ دفاعی ٹیکنالوجی میں ایک ترقی یافتہ صنعت کا حامل ہے جبکہ سعودی عرب کی مالیاتی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مکۃ المکرمہ کی بابرکت سر زمین پر ہونے والے اس معاہدے نے تینوں ممالک کی دفاعی طاقت‘ ٹیکنالوجی صلاحیت اور معاشی قوت کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت علاقائی اور عالمی تناظر میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ علاقائی حوالے سے دیکھا جائے تو مسلم ریاستوں کو درپیش خطرات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے خطے نے حالیہ کچھ عرصے کے دوران جس قسم کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کیا ہے اس صورتحال نے پائیدار امن کی یقین دہانی کیلئے طویل مدتی اور پائیدار حل کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا۔ قوی امید ہے کہ آنے والے کچھ وقت میں خلیجی خطے کے دیگر ممالک میں سے بھی کچھ اس دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی ضرورت محسوس کریں کیونکہ علاقائی سطح پر سکیورٹی کے چیلنجز پچھلے کچھ عرصہ کے دوران خاصے بڑھ چکے ہیں۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے نے خطے میں بیرونی مسلح مداخلت اور جارحیت کے خطرات کو مزید واضح کر دیا۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کے امن کو متاثر کیا اور تجارتی گزرگاہوں کی بندش اور توانائی کے وسائل میں رکاوٹوں کے اثرات کو پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں دفاعی معاہدے کی ضرورت کا احساس پیدا کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر نظر آتی ہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کیلئے متعدد شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات پیدا کرتا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج‘ دفاعی صنعتیں‘ ٹیکنالوجی کے ادارے اور معاشی صلاحیتیں مل کر مشترکہ مضبوط دفاع یقینی بنائیں گی اور معاشی ترقی کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔
یہ زمانہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا ہے اور یہ ایسے میدان ہیں جن میں کوئی ایک ملک اپنے لیے خود کفالت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ علم‘ تجربے اور ترقی میں ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں‘ یہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ مسلم ممالک میں یہ خیال دیر سے ہی سہی مگر مقام شکر ہے کہ آ تو گیا۔ مشترکہ دفاعی معاہدہ ہمارے ممالک کو فیصلہ سازی میں مزید ایک دوسرے کے قریب کرے گا اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں مزید آسانی پیدا ہو گی۔ اس طرح یہ مشترکہ معاہدہ تینوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور یہ دیگر مسلم ممالک کیلئے بھی ایک مثال ثابت ہو گا۔ مسلم ممالک آبادی‘ رقبے ‘ معیشت غرض ہر لحاظ سے دنیا میں بلند مرتبہ حیثیت کے حامل ہیں تاہم باہمی اختلافات اور سیاسی تنازعات ان ممالک کی قربت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ مگر حالات و واقعات اس امر کے شاہد ہیں کہ قدرت نے مسلم دنیا کا مقدر ایک دوسرے کیساتھ جوڑ دیا ہے۔ ہم آپس میں خواہ جیسی دوریوں پر ہوں مگر ہمارے دشمن ہمیں ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ وقت تاریخ اور حالات کو سمجھنے اور سیکھنے کا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ ایک مثال ہے اور ایک بڑی پیش رفت بھی‘ جس نے امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات کیلئے اتحاد اور بھائی چارے کا سبب پیدا کر دیا ہے۔