مصیبت میں پھنسے پاکستانی
تقریباً 110روز سے صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے پاکستانی عملے کے دس افراد نے گزشتہ روز ایک وڈیو پیغام میں حکومت سے اپنی رہائی کیلئے مدد کی اپیل کی ہے۔ پاکستانی عملہ 21اپریل کو ایک تجارتی جہاز پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہوا تھا۔ اس طویل عرصے میں ان کی صحت بھی سنگین خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔ ویڈیو پیغام میں یرغمالیوں نے بتایا کہ ان کے بیشتر ساتھی بیمار پڑ چکے ہیں‘ مناسب طبی سہولتیں میسر نہیں اور مسلسل غیر یقینی صورتحال نے ان کی جسمانی و ذہنی قوت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں ہر گزرتا دن ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب ان کے اہلِ خانہ بھی شدید ذہنی اذیت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بیرونِ ملک مصیبت میں پھنسے اپنے شہریوں کی حفاظت اور بحفاظت واپسی کو یقینی بنائے۔

اگر حکومت ہی مصیبت میں گھرے اپنے شہریوں کی داد رسی نہ کرے تو پھر ان کا سہارا کون بنے گا؟اگرچہ وزارتِ بحری امور اور دفترِ خارجہ کی جانب سے صومالی حکام سے رابطوں کی خبریں ہیں لیکن اب تک ان کوششوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت سفارتی سطح پر کوششوں میں تیزی لائے‘ صومالی حکام پر دباؤ بڑھائے‘ متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور دوست ممالک کی معاونت حاصل کرے اور ہر ممکن طریقے سے پاکستانی یرغمالیوں کی جلد اور محفوظ واپسی یقینی بنائے۔