دہشت گردی کے خلاف عزم
گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع خاران میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید سات دہشت گرد مارے گئے۔ قبل ازیں خضدار اور پنجگور میں کارروائیوں میں 15 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی فورسز واضح کر چکی ہیں کہ آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ دشوار گزار پہاڑی و سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور محفوظ ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں سے عیاں ہے۔ اہم کمانڈروں سمیت دو درجن سے زائد تخریب کاروں کی ہلاکت اور ان کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کر کے ملک دشمنوں کی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کا یہ آپریشن ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بلوچستان کی روایتی اور قبائلی اقدار کے برعکس دہشت گردوں نے انتہائی بزدلانہ ہتھکنڈے اپناتے ہوئے گھروں میں گھس کر خواتین کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ نوشکی میں دو خواتین کو گھر میں گھس کر قتل کرنے کا واقعہ یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ دہشت گردوں کا نہ تو بلوچ روایات سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انسانیت سے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں اور ان کے مالیاتی لاجسٹک نیٹ ورکس کا خاتمہ خوش آئند اقدام‘ تاہم پائیدار امن کیلئے عسکری حکمت عملی کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تعلیم‘ صحت اور روزگار کی فراہمی جیسے منصوبوں کو بھی تیز کرنا ہو گا۔