غذائی قلت اور قومی مستقبل
بچوں میں غذائی قلت محض صحت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ تعلیم‘ انسانی وسائل اور معیشت کیلئے بھی ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق غذائی قلت کے باعث ملک کو سالانہ تقریباً 7.6ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ 2025ء کے عالمی ہنگر انڈیکس میں پاکستان 123 ممالک میں 106ویں نمبر پر ہے اور اس کی غذائی صورتحال کو ’’سنگین‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 40فیصد بچے قد کی نشوونما میں کمی یعنی سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ کمزور غذائیت بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما محدود کرتی ہے جسکے نتیجے میں تعلیمی کارکردگی متاثر اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف غذائی قلت سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر عوام اور حکومت کے صحت کے اخراجات بڑھتے ہیں جبکہ خون کی کمی اور جسمانی کمزوری بالغ افراد کی کام کرنے کی صلاحیت گھٹاتی ہے۔ یوں آج خوراک کی کمی کل کم آمدنی‘ کم پیداوار اور کمزور انسانی سرمائے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مہنگائی‘ کم آمدنی اور روزگار کے محدود مواقع نے لاکھوں خاندانوں کیلئے متوازن غذا کو ناقابلِ استطاعت بنا دیا ہے۔ حکومت کو غذائیت کو محض صحت کے شعبے کا معاملہ سمجھنے کے بجائے قومی ترقی کی ترجیح بنانا ہو گا۔اس ضمن میں عوام کی معاشی سکت بڑھانے پر خاص توجہ مرکوز کی جائے تاکہ وہ تین وقت معیاری کھانا کھا سکیں۔