حکومتی اخراجات کا بوجھ
وفاقی وزارتِ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال میں وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات سالانہ بنیادوں پر تقریباً 16 فیصد اضافے کیساتھ 1033ارب روپے تک پہنچ گئے‘ مالی سال 2024-25ء میں یہ اخراجات 892 ارب روپے تھے۔ یہ صورتحال حکومت کی کفایت شعاری پالیسی پرگہرے سوال اٹھاتی ہے۔ محض کفایت شعاری کے اعلانات‘ اجلاسوں اور پالیسی بیانات سے قومی خزانے پر بوجھ کم نہیں ہوگا۔ اس کیلئے حکومتی اداروں‘ وزارتوں اور ڈویژنز کے غیر ضروری انتظامی اور آپریشنل اخراجات میں کمی لانا ہو گی۔ وفاقی حکومت کی مالی گنجائش پہلے ہی محدود ہے کہ ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہو جاتا ہے لیکن وفاق اپنے مسلسل بڑھتے اخراجات کیلئے زیادہ قرض لے رہا ہے۔ گزشتہ 28 ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے جو قرض لیا اسکا حجم 19 ہزار ارب روپے کے قریب بنتا ہے۔

یہ صورتحال غیر معمولی ہے اور یہی کہا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سرکاری محکموں کی مراعات‘ پروٹوکول اور غیر ضروری انتظامی اخراجات کہ جن کے بغیر حکومتی امور چل سکتے ہیں‘ ان سب کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ کفایت شعاری مہم کو نمائشی اقدامات کے بجائے مستقل مالیاتی نظم و ضبط میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ قومی خزانے کا پیسہ حکمرانوں اور اشرافیہ کی غیرضروری مراعات پر خرچ ہونے کے بجائے تعلیم‘ صحت‘ روزگار اور دیگر بنیادی سہولتوں پر صرف ہونا چاہیے۔