گندم بحران، آٹا مہنگا
ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور گندم کا بحران حکومتی نااہلی‘ بروقت فیصلہ سازی میں تاخیر اور ذخیرہ اندوزوں کے سامنے انتظامیہ کی بے بسی کا شاخسانہ ہے۔ ہر سال گندم کی کٹائی اور خریداری کے سیزن میں حکومتی پالیسیوں میں ردوبدل کی وجہ سے عوام سستی روٹی سے اور کسان اپنی محنت کے جائز معاوضے سے محروم ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے گندم کی خریداری کے ہدف اور قیمتوں کے تعین میں لیت ولعل نے ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ملک گندم درآمد کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اس بحران سے مستقل بنیادوں پر نمٹنے کیلئے وفاق بالخصوص صوبائی حکومتوں کو پائیدار زرعی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

زراعت جیسے اہم شعبے کو تجربات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کسانوں کو غیر یقینی کا شکار کرتا ہے جس کا براہ راست اثر فصل کی کم بوائی اور پیداوار میں نمایاں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ گندم کی امدادی قیمت کا اعلان فصل کی بوائی کے وقت کیا جائے تاکہ کسان دلجمعی سے فصل کاشت کر سکیں۔ حالیہ بحران سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کیلئے ایسی مستحکم اور دیرپا زرعی پالیسی وضع کی جانی چاہیے جو کسان‘ معیشت اور عام صارف تینوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ علاوہ ازیں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی ضروری ہے۔