مالیاتی وسائل کا ضیاع
اختیارات کی منتقلی سے متعلق سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ 18ویں ترمیم کے باوجود وفاقی حکومت بعض وزارتوں اور امور کو اپنے پاس برقرار رکھ کر سالانہ پانچ سے چھ ہزار ارب روپے ضائع کر رہی ہے۔ آبی وسائل‘ موسمیاتی تبدیلی‘ ہاؤسنگ اور ثقافت و ورثہ سمیت پچیس سے زائد ادارے صوبوں کو یا مشترکہ مفادات کونسل کو منتقل ہونے چاہئیں مگر گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اس جانب پیشرفت نہ ہونے سے سالانہ چھ ہزار ارب روپے تک کا اضافی مالی بوجھ برداشت کیا جا رہا ہے‘ جو پنجاب کے کُل سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ سینیٹ کمیٹی کا یہ انکشاف وفاق کے کفایت شعاری اور اصلاحات کے دعوؤں کے علاوہ حکومتی ترجیحات پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ایک طرف حکومت سالانہ ایک دو ارب ڈالر کی قسطوں کیلئے عالمی مالیاتی ادارے کی سخت شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہے اور دوسری جانب اس سے کئی گنا زیادہ مالیاتی وسائل غیر ضروری اخراجات پر صرف کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں وفاق نے مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے صوبوں سے ترقیاتی فنڈز اور سرپلس ریونیو کا مطالبہ کیا‘ اگر حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کا کام سنجیدگی سے مکمل کر لیتی تو نہ صرف صوبوں کا بجٹ متاثر نہ ہوتا بلکہ کئی گنا زیادہ وسائل ترقیاتی منصوبوں کیلئے دستیاب ہو سکتے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ادارہ جاتی اصلاحات کا کام سنجیدگی سے مکمل کیا جائے۔ سالانہ ہزارہا ارب روپے کی یہ ممکنہ بچت پاکستان کو معاشی دلدل سے نکالنے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔