عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ ، سیاسی بصیرت کا امتحان
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اُن کے اہلخانہ کی ملاقات اوراُن کو علاج کیلئے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم ایک اہم اور دوررس فیصلہ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جہاں ایک قیدی کے طبی حقوق کا تحفظ کیا‘ وہیں اس بات پر بھی زور دیا کہ صحت کے اس حساس معاملے کوسیاسی رنگ دینے سے اجتناب کیا جائے۔ ابتدائی طور پر حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا‘ تاہم منگل کی شام وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا یہ بیان سامنے آ گیا کہ حکومت اس پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔پچھلے کئی ماہ کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں اُن کے عزیز واقارب سے ملاقاتوں کا معاملہ بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا عارضہ اور ہسپتال میں ان کے علاج سے پی ٹی آئی اور بانی کے اعزہ کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا اور ان کی جانب سے ملاقات کے لیے عدالتی دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ اگر حکومت خود ہی اس تشویش کا ازالہ کر دیتی تو شاید یہ سیاسی تنازع کی صورت اختیار نہ کرتی۔

تاہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو بروقت اور احسن قرار دیا گیا ہے کہ اس سے ملک کی سیاسی فضاؤں میں تناؤ کو کم کرنے اور دوسری جانب ایک قیدی اور اس کے اہل خانہ کے ملاقات کے حق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اگر کسی قیدی کے اہل خانہ یا اس کے وکلا کسی ضابطے یا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اس کی سزا اُس قیدی کو اس کے بنیادی طبی حقوق پر قدغن کی صورت میں نہیں دی جا سکتی۔ اگر ابتدا ہی سے جیل مینوئل اور رائج قواعد وضوابط پر شفافیت کے ساتھ عمل کیا جاتا تو یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ یہ جیل انتظامیہ کی کوتاہی تھی کہ ایک خالصتاً انتظامی معاملے کو اس حد تک طول دیا گیا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو اس میں مداخلت کرنا پڑی۔ اسی پس منظر میں حکومت کے ان رہنماؤں کے بیانات کو دیکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر من وعن عملدرآمد کا کہا۔ اگرچہ وزیر قانون کا بیان جس میں مذکورہ فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کا بتایا گیا ہے‘ حکومت کی جانب سے ایک مختلف نقطہ نظر کو پیش کرتا ہے۔ ہر چند کہ حکومت کو اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کا قانونی حق حاصل ہے تاہم اس خالصتاً صحت کے معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد میں حکومت پس و پیش سے کام لیتی ہے تو یہ اقدام کوئی اچھی نظیر قائم نہیں کرے گا۔
ایسے حساس معاملات پر قانونی موشگافیوں سے خدشہ یہ ہے کہ ملک میں سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ تاثر مزید پختہ ہوگا کہ حکومت بنیادی انسانی معاملے کو بھی سیاست کی عینک سے دیکھتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ فیصلہ سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے اسباب مہیا کرتا ہے؛ چنانچہ بہتر ہو گا کہ حکومت اس فیصلے کو ایک امکان کے طور پر لے اور اس کی مدد سے ملک میں سیاسی بے یقینی کو استحکام میں اور سماجی بے چینی کو اطمینان میں بدلنے کی کوشش کرے۔ انسانی ہمدردی کے جذبات ہمارے سماج میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور ہماری سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حکومتوں نے قیدیوں کے لیے غیر معمولی اقدامات کئے۔ موجودہ حکومت بھی ایسا کوئی اقدام کرتی ہے تو یہ اس کے حق میں جائے گا مخالفت میں نہیں۔
پاکستان اس وقت جن شدید معاشی‘ سماجی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہے‘ ان کا تقاضا ہے کہ ملک میں سیاسی محاذ آرائی کے طوفان کو تھمنے کا موقع دیا جائے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کو ایسا موقع فراہم کرتا ہے جسے اگر حکمت‘ تدبر اور سیاسی بصیرت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو یہ ملک میں سیاسی ہم آہنگی اور مفاہمت کے نئے باب کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔