اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

زراعت کی بحالی، معیشت کی بحالی

وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی شعبے کی اصلاحات اور حکومت کے پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے جائزہ اجلاس میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو معاونت فراہم کرنے کا کہا ہے۔ زراعت جیسے بنیادی شعبے کیلئے یہ اعلان خوش آئند ہے تاہم اصل کام اعلانات نہیں بلکہ ان پر مؤثر اور شفاف عملدرآمد ہے۔ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جی ڈی پی میں زرعی شعبے کا حصہ 23.44 فیصدہے اور ملکی لیبر فورس کا تقریباً 37.4 فیصد اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اسکے باوجود گزشتہ مالی سال میں اسکی شرح نمو 2.89 فیصد رہی۔ کروڑوں پاکستانیوں کے روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہونے کے باوجود یہ شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔

مہنگے بیج‘ کھاد‘ زرعی ادویات‘ بجلی‘ ڈیزل اور مشینری نے پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھا دی جبکہ کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کے حصول کیلئے بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ زراعت کی بحالی کیلئے حکومت کو سستے اور معیاری زرعی مداخل کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ پرانے اور ناقص بیجوں‘ روایتی طریقہ کاشت‘ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے محدود استفادہ اور کمزور زرعی توسیعی نظام کی وجہ سے ہماری پیداواری صلاحیت محدود ہے۔ حکومت کو زرعی تحقیقاتی اداروں کو فعال بنانا ہوگا تاکہ زراعت کو حقیقی معنوں میں ترقی دی اور پیداوار بڑھائی جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں