غیر قانونی کال سنٹرز کا جال
اسلام آباد میں ایک غیر قانونی کال سنٹر سے سائبر فراڈ میں ملوث 284غیر ملکیوں کی گرفتاری کے بعد حکومت نے ملک بھر میں غیر قانونی کال سنٹرز کیخلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ خبروں کے مطابق گرفتار غیر ملکی سادہ لوح شہریوں کو سائبر فراڈ‘ بلیک میلنگ اور سرمایہ کاری کے نام پر لوٹ رہے تھے۔ جبکہ بعض آن لائن فحش مواد کے عالمی نیٹ ورک سے بھی وابستہ تھے۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے بدنامی کا باعث ہے۔ ایک طرف سادہ لوح شہریوں کا مالی استحصال کیا جا رہا ہے‘ دوسری طرف ایسے منظم جرائم ملک کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اگران منظم جرائم پیشہ گروہوں کی وجہ سے ملک کو سائبر جرائم کیلئے محفوظ پناہ گاہ سمجھا جانے لگا تو اس سے بیرونی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔

گرینڈ آپریشن صرف چھاپوں‘ گرفتاریوں اور مقدمات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ گرفتار غیر ملکی ملزمان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرکے انہیں فارن کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے اور انکے ممالک کو بھی انکے جرائم سے آگاہ کرکے کارروائی کا مطالبہ کیا جائے۔ تاہم سب سے اہم کام انکے مقامی سہولت کاروں اور اصل سرپرستوں کو بے نقاب کرنا ہے۔ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ سینکڑوں غیر ملکی یہاں بڑے پیمانے پر کال سنٹر قائم کریں اور کسی مقامی معاونت کے بغیر طویل عرصے تک یہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ یہ آپریشن اسی وقت کامیاب ہو گااس پورے جرائم پیشہ نیٹ ورک کی جڑیں کاٹ دی جائیں۔