اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

انتظامی طرزِ نو اور بہتر حکمرانی

چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز‘ ماہر تعلیم اور سابق ضلع ناظم لاہور میاں عامر محمود نے گزشتہ روزلاہور میں ’’میرا صوبہ‘ میرا نظام‘‘آگاہی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر اس جانب توجہ دلائی کہ ہمیں حکمران بدلنے کے بجائے نظام بدلنا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کو درپیش مسائل پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو عموماً سیاسی جماعتوں کی کارکردگی یا حکومتوں کی ناکامی پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اچھی قیادت اور مؤثر حکومت یقینا کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہیں مگر پاکستان میں گزشتہ پون صدی کے دوران مختلف سیاسی نظام اور حکمران آئے لیکن انتظامی کمزوریاں‘ علاقائی محرومی‘ وسائل کی غیرمساوی تقسیم اور عوام سے حکومت کا  فاصلہ برقرار رہا۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ مسئلے کو صرف سیاسی نہیں انتظامی زاویے سے بھی دیکھا جائے۔ دنیا کے ہر ملک نے آبادی بڑھنے کیساتھ اپنے انتظامی یونٹس کی تعداد میں اضافہ کیا مگر ہمارا ملک شاید واحد مثال ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے اب تک آبادی میں سات گنا اضافہ ہو گیا مگرصوبوں کی تعداد وہی کی وہی ہے۔ ہمارے ہاں نئے صوبوں کی تشکیل  کی راہ میں سیاسی رکاوٹیں ڈالی گئیں اور شبہات پیدا کئے گئے۔ ایک بڑا مغالطہ یہ پیدا کیا گیا کہ نئے صوبے بنانے سے اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا حالانکہ صوبے چھوٹے ہونے سے بیوروکریسی کی تعداد کم ہو جائے گی۔

بڑے صوبوں کیلئے اضافی بیوروکریسی اور دیگر لوازمات کی ضرورت پڑتی ہے‘ جب بڑے صوبے کئی چھوٹے یونٹس میں تقسیم ہو جائیں گے تو ان اضافی اخراجات کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سب سے بڑا فرق یہ آئے گا کہ صوبوں کے مالی وسائل ان صوبے میں تشکیل پانے والے سبھی انتظامی یونٹس میں طے شدہ فارمولے کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ اس طرح صوبوں کے وہ علاقے جو دور دراز ہیں اور حکومتی ترجیحات میں اوپر  نہیں آ سکے انہیں بھی وسائل میسر آئیں گے‘ مقامی سطح پر ترقی ہو گی اور محرومیوں کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ پاکستان کے نوجوان بھی اصلاحات کے متقاضی ہیں۔ نوجوان ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہیں اور جمہوری اصول یہ ہے کہ اکثریتی آبادی کو نظامِ حکومت میں ترجیحی شراکت داری ملے مگر ہمارے نوجوان کسی کی ترجیحات میں نہیں۔ اس صورتحال نے نوجوانوں کو مایوسی اور محرومی کے احساس سے دوچار کیا ہے۔ حکومتیں نہ ان کیلئے حسبِ ضرورت روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں اور نہ تعلیم و تربیت کے وافر مواقع۔ اور المیہ یہ کہ نوجوانوں کیلئے سیاست میں جگہ بنانے کی گنجائش اور امکانات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

صوبائی اور وفاقی سیاست تو عام آدمی کے بس کا روگ نہیں‘ عام آدمی صرف مقامی سطح کے سیاسی دھارے میں پاؤں رکھنے کا سوچ سکتا ہے مگر ہمارے ہاں بلدیاتی انتخابات نہ باقاعدہ ہیں اور نہ انہیں وہ اہمیت حاصل ہے جو اس نظامِ حکومت کو ہونی چاہیے۔ شاید ہی کسی سیاسی حکومت نے بلدیاتی انتخابات معمول کے مطابق کروائے ہوں اور وسائل اور اختیارات منتخب نمائندوں کو سونپے ہوں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں صوبوں کو صرف مالی وسائل اور اختیارات نہیں ملے تھے ان پر کچھ آئینی ذمہ داریاں بھی ڈالی گئی تھیں‘ مقامی حکومت کا نظام قائم کرنا اور سیاسی‘ انتظامی اور مالی اختیارات اور ذمہ داریو ں کی منتقلی۔  مگر یہ سب نہیں ہو سکا۔ مالی وسائل صوبوں کو مل گئے مگر آگے منتقل نہ ہوئے۔

صوبے این ایف سی کی تو بات کرتے ہیں مگر پی ایف سی کا نہ کہیں ذکر ہے نہ کسی کو خبر ہے۔ اس صورتحال میں چھوٹے صوبے اور بلدیاتی حکومتوں کا مؤثر نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صرف یہی ایک طریقہ ہے ملک کو اچھی گورننس دینے کا۔ بہترین مستقبل اچھی گورننس کے بغیر ممکن نہیں اور بہترین گورننس کیلئے انتظامی ڈھانچے پر توجہ دینا ہو گی۔ یہی اگلی نسلوں کی خوشحالی اور ترقی کی بنیاد ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں