مزدوروں پر حملہ
بلوچستان کے ضلع پشین میں سڑک کی تعمیر میں مصروف مزدوروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعہ نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ ملک کو بدستور دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز پیش آنیوالے اس واقعے میں پانچ مزدور جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوا۔ بلوچستان گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ برس صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا‘ اور دہشت گرد گروہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کیساتھ ساتھ عام شہریوں‘ شاہراہوں‘ تنصیبات اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی نشانہ بنایا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کو دہشت گردی کی وجہ سے ناقابلِ تلافی جانی اور معاشی نقصان پہنچا ہے۔

دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں‘ پوری قوم کی قربانیوں اور معاشی امکانات کے ضیاع کی داستان ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کو وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل مدتی قومی پالیسی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں ریاست بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں‘ شاہراہوں پر کام کرنیوالے محنت کشوں کو مؤثر سکیورٹی بھی فراہم کرے۔