پائیدار امن کی تلاش
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی سفارتی اور اقتصادی کشیدگی کے دوران چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا ہنگامی دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ ہمسایہ ملک کے ساتھ رسمی سکیورٹی کوآرڈی نیشن تک محدود نہیں بلکہ خطے کو ایک نئے ممکنہ عسکری اور معاشی تصادم سے بچانے کی ایک بروقت کوشش کا بھی مظہر ہے۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیہ کے مطابق فیلڈ مارشل مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے پُرامن‘ پائیدار اور جامع حل کیلئے کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔ ایران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے فیلڈ مارشل کا استقبال کیا اور بعدازاں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور سپیکر ایرانی اسمبلی باقر قالیباف سے ملاقات ہوئی۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پڑوس میں کشیدگی بڑھتی یا جنگ کی آگ بھڑکتی ہے تو اثرات صرف وہیں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ شعلے سرحدوں کو عبور کر کے علاقائی ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ پاکستان اسی لیے ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر خطے کے استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

اس دورے کا ایک سبب واشنگٹن اور تہران کے درمیان نئی اقتصادی جنگ ہے‘ جس سے خطے اور دنیا کے باقی ممالک کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ ایک طرف امریکہ نے ایران کے خلاف حتمی اور فیصلہ کن اقتصادی کارروائی کا اعلان کر کے ایران کی معیشت کا گھیراؤ مزید سخت کرنے اور ایسی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن کا ہدف ایران کے تجارتی شراکت دار ہوں گے‘ جبکہ دوسری جانب ایران نے جارحانہ جوابی حکمت عملی اپناتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی توانائی اور تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے پر کسی بھی قسم کی بندش‘ ممکنہ ناکی بندی یا اضافی فیس کا براہِ راست اثر تیل و گیس کی عالمی مارکیٹ پر پڑے گا اور پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال دہری تشویش کا موجب ہے؛ ایک طرف سرحدوں پر کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے‘ جو پاکستان کی مغربی سرحد پر امن و سلامتی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے اور دوسری طرف ایک نئے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘ جو عام آدمی کی رہی سہی معاشی سکت کو بھی ختم کر سکتا‘ اور ملکی معیشت پر بھی اس کا انتہائی منفی اثر پڑے گا۔
لہٰذا ایران اور امریکہ کا یہ نیا اقتصادی محاذ بین الاقوامی تجارتی اور اقتصادی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور اس کا حل طاقت اور دھونس سے نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر‘ حکمت و دانش کے ساتھ ہی نکالا جا سکتا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا یہ اعتراف کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اسلام آباد کے مصالحتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ قبل ازیں رواں سال اپریل میں پاکستان ہی کی کوششوں سے 47 سال بعد امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا اور بعد ازاں ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق بھی ہوا تھا‘ تاہم اس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا جا سکا‘ جس کی وجہ سے کشیدگی دوبارہ بڑھنے لگی۔ اب پھر پاکستان ایک سٹرٹیجک پُل کا کردار ادا کر رہا ہے‘ جو متحارب ملکوں کے درمیان رابطوں کو بحال رکھنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس دورے کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ پاکستان علاقائی سلامتی اور بحری تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ کیلئے اپنی بساط سے بڑھ کر کوششیں کر رہا ہے کیونکہ اگر مشرقِ وسطیٰ کے امن کو خطرہ لاحق ہوا تو نہ صرف دنیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گابلکہ اس بحران کے معاشی اثرات سے کوئی بھی خطہ محفوظ نہیں رہ پائے گا۔