اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موڈیز ریٹنگ میں بہتری

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی غیرضمانتی قرضوں کی ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دی ہے اور معاشی آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔ موڈیز کے مطابق ریٹنگ بہتر کرنے والے عوامل میں زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ‘ معاشی استحکام‘ مالیاتی پوزیشن میں بہتری‘ شرحِ سود میں کمی‘ قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد شامل ہیں۔ موڈیز رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026ء میں سود کی ادائیگیوں کا بوجھ حکومتی آمدن کے تقریباً 35 فیصد تک آگیا جو ایک سال پہلے 49 فیصد تھا۔ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کیلئے عالمی مالیاتی منڈیوں میں رسائی نسبتاً آسان‘ بیرونی قرضوں کی لاگت میں کمی‘ بانڈز کے ذریعے فنانسنگ کے امکانات میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آسکتی ہے۔

تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ B3 اب بھی سرمایہ کاری کے درجے سے نیچے اور بلند کریڈٹ خطرے کی درجہ بندی ہے۔ چنانچہ حکومت کو اس کامیابی پر اکتفا کرنے کے بجائے کمزور بیرونی مالیاتی پوزیشن‘ بلند قرض‘ محدود ٹیکس بیس‘ کم سرمایہ کاری اور کم معاشی نمو جیسی بنیادی کمزوریوں پر توجہ دینا ہوگی جن کی نشاندہی خود موڈیز نے کی ہے۔ موڈیز کی ریٹنگ میں بہتری ایک خوشگوار جھونکا ہے مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بہتر کریڈٹ ریٹنگ کے ثمرات فائلوں اور مالیاتی منڈیوں سے نکل کر عام آدمی کے گھر تک بھی پہنچیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں