اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کرکٹ کی زبوں حالی

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد کرکٹ بورڈ کی جانب سے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے سات کھلاڑیوں کی واپسی اور ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور باؤلنگ کوچ سے ذمہ داریاں واپس لینے پرہنگامہ مچا ہوا ہے۔ کرکٹ نہ صرف پاکستانیوں کا پسندیدہ کھیل ہے بلکہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بہترین سہولتیں‘ تربیتی مواقع اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے بھرپور مواقع بھی میسر ہیں‘ لیکن اسکے باوجود کارکردگی کا گراف مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ گزشتہ 27 ٹیسٹ میچوں میں 18 شکستیں‘ دو ڈرا اور صرف سات فتوحات اس صورتحال کی سنگینی واضح کرنے کیلئے کافی ہیں۔ انگلینڈ کیخلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز بھی اسی زوال کی ایک اور افسوسناک مثال ہے۔ چاروں اننگز میں پاکستان 200 رنز کا ہندسہ عبو نہ کر سکا۔ ٹیم کا کوئی بھی شعبہ مضبوط دکھائی نہیں دیا۔

بیٹنگ میں تسلسل اور مزاحمت کا فقدان تھا‘ باؤلنگ میں وہ دباؤ اور جارحیت نظر نہیں آئی جو انگلینڈ جیسی ٹیم کے خلاف ضروری تھی۔ تاہم سوال صرف کھلاڑیوں کا نہیں‘ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کا بھی ہے۔ انتظامیہ کو ٹیم میں بار بار اکھاڑ پچھاڑ کے بجائے ایک واضح‘ طویل مدتی اور میرٹ پر مبنی پالیسی بنانا ہو گی۔ ساتھ ہی ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار بلند کرنے‘ نوجوان کھلاڑیوں کی مناسب تربیت‘ فٹنس کے سخت معیار‘ جدید کوچنگ اور کارکردگی کے شفاف احتساب کو یقینی بنانا ہو گا۔ قومی کرکٹ کو وقتی فیصلوں اور ہنگامی ردِعمل سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی‘ بہتر منصوبہ بندی اور مضبوط نظام سے دوبارہ عروج کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں