انسانی جان چالان سے زیادہ قیمتی
لاہور میں ٹریفک وارڈن کی غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہونے والا موٹر سائیکل سوار نوجوان پانچ روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کی سامنے آنیوالی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ٹریفک وارڈن موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے سڑک کے درمیان میں آگیا‘ جسکے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ ٹریفک پولیس کے اپنے وضع کردہ ایس او پیز کے مطابق اہلکار کو کسی سواری کو روکنے کیلئے محفوظ فاصلے سے ہاتھ یا الیکٹرانک بٹن کے ذریعے سڑک کے کنارے رکنے کا اشارہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شہری نہ رکے تو اہلکار کو سواری کا نمبر نوٹ کرکے وائرلیس کے ذریعے اطلاع دینا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سیف سٹیز اتھارٹی کو مطلع کرکے متعلقہ سواری کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔

ایسی واضح ہدایات کے باوجود ایک ٹریفک وارڈن کا موٹر سائیکل سوار کو روکنے کیلئے کیا گیا یہ عمل سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ یقینا ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری کا فرض ہے‘ مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف ٹریفک اہلکار اپنے اختیارات سے تجاوز کریں اور لوگوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنیں ۔ مذکورہ وقوعے کے ذمہ دار ٹریفک اہلکار کو معطل کر دیا گیا مگر ایک قیمتی جان کا زیاں ایسا معاملہ نہیں کہ جسے معطلی سے دبادیا جائے۔ ایسے واقعات سخت محکمانہ کارروائی کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ مثال قائم ہو اور آئندہ ایسے عمل دہرائے نہ جائیں۔