دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلح افواج کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسلح افواج قوم کی غیرمتزلزل حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے اور ملک بھر میں دیرپا امن اور استحکام کیلئے پُرعزم ہیں۔ پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر فیلڈ مارشل نے خیبر پختونخوا میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشنز‘ سرحدی انتظامی اقدامات اور صوبے میں تعینات فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے‘ تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ فیلڈ مارشل کا پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کا مذکورہ بیان جہاں ایک طرف عسکری قوت اور قومی یکجہتی کے باہمی رشتے کو اجاگر کرتا ہے وہیں اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دہشت گردی محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک سنگین اور ہمہ جہت قومی مسئلہ ہے جس کی جڑیں سماجی‘ نظریاتی‘ معاشی اور سیاسی ناہمواریوں میں پیوست ہیں۔ قومی سلامتی کے اس خطرے کو محض عسکری حکمتِ عملی سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے خلاف ایسی ہمہ جہت اور ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ ریاست کے تمام ستون اور سماج کا ہر طبقہ بھرپور کردار ادا کرے۔

اگر ہم موجودہ ملکی صورتحال کا جائزہ لیں تو اس ضمن میں ایک واضح خلا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹ لائن پر جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں‘ دن رات انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں‘ دوسری جانب ان عسکری کامیابیوں کو استحکام دینے کیلئے سماجی‘ سیاسی اور انتظامی سطح پر وہ کوششیں نظر نہیں آتیں جو وقت کا تقاضا ہیں۔ سکیورٹی فورسز کسی علاقے کو دہشت گردوں سے پاک تو کر سکتی ہیں لیکن وہاں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو دوبارہ پنپنے سے روکنا‘ پسماندگی دور کرنا‘ قانون کی بالادستی قائم کرنا اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا‘ یہ سب کام سول انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہیں۔ جب تک انتظامی اور سماجی سطح پر یکسوئی اور ہم آہنگی نہیں ہو گی عسکری کامیابیاں پائیدار ثابت نہیں ہو سکتیں۔ پاکستان اس وقت شدید سیاسی دھڑے بندی کا شکار ہے‘وفاق اور اکائیوں کے مابین بڑھتے اختلافات نے قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو بھی پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان دہشت گردی کی بیخ کنی کے عمل میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ جب سکیورٹی پالیسیوں جیسے اہم امور پر سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر نہیں ہوں گے تو لامحالہ اس تقسیم کا فائدہ دشمنوں کو پہنچے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ وفاق اور تمام صوبے مل کر‘ مکمل یکجہتی کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی منظم‘ جامع اور مربوط حکمت عملی طے کریں۔ اس کے لیے نیشنل ایکشن پلان کواُس کی روح کے مطابق دوبارہ فعال کرنے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے دیرینہ اور پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی‘ باہمی ہم آہنگی اور سیاسی اتفاق رائے بھی ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے متحد ہو کر کسی چیلنج کا سامنا کیا ہے‘ کامیابی نے ہمارے قدم چومے ہیں۔ مسلح افواج دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے میں اپنا فرض نبھا رہی ہیں لیکن اس عفریت سے نمٹنے کیلئے سیاسی قیادت کو بھی اپنے اختلافات کو ختم کر کے ایک میز پر بیٹھنا ہوگا اور دشمن کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ جب بات ملکی سلامتی کی آئے گی تو پوری قوم اور اس کی قیادت سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گی۔