پولیو ٹیم پر حملہ
ملک کے 115 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی سات روزہ مہم کا آج تیسرا روز ہے۔ اس مہم میں پانچ سال سے کم عمر تین کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مگر گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو مسلح افراد نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلا کر قوم کے بچوں کو پولیو قطروں سے محروم رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔ رواں سال سات پولیس اہلکار پولیو ڈیوٹی کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے اضلاع چمن‘ نصیرآباد‘ ڈیرہ مراد جمالی‘ نوشکی جبکہ خیبرپختونخوا کے بنوں‘ باجوڑ‘ ٹانک اور لکی مروت جیسے علاقوں میں پولیو مہمات کو مسلسل سکیورٹی خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں خطرے والے علاقوں کی پیشگی نشاندہی‘ ان علاقوں میں پولیو ٹیموں کیلئے زیادہ مؤثر حفاظتی انتظامات اور ضلعی انتظامیہ و پولیس کے درمیان بہتر رابطہ یقینی بنائیں۔ پولیو کے خلاف اس جنگ میں والدین کو بھی ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو دہشت گردوں کے خوف سے پولیو کے قطروں سے محروم رکھ کر عمر بھر کیلئے معذور بنانے کے بجائے انہیں باقاعدگی سے پولیو کے قطرے پلائیں۔ یہی دہشت گردوں کی شکست ہے۔