اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

احتجاج، سیاست اور معیشت

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں مارچ‘ دھرنوں اور احتجاجوں کے باعث معیشت کو یومیہ تقریباً 120ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں تعطل سے سروسز سیکٹر کو روزانہ 86 ارب ‘ صنعتی شعبے کو 25 ارب اور تعمیرات‘ خام مال اور سپلائی چین سے متعلق سرگرمیوں کو تقریباً نو ارب روپے یومیہ نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں‘ جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے صنعتی شعبہ اور عام آدمی پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں‘ ایسے میں اندرونِ ملک معاشی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والا تعطل معاشی مشکلات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ احتجاج جمہوری نظام کا تسلیم شدہ حق ہے اور اپنے مطالبات کیلئے پُرامن احتجاج سیاسی عمل کا حصہ ہے‘ مگر ہمارے ہاں عمومی طور پر احتجاج کی جائز حدود کو پھلانگنے کا رواج ہے۔

اس دوران نجی و سرکاری املاک کی حفاظت کیلئے حکومت کو سڑکوں پر کنٹینر لگا کر راستے بند کرنا پڑتے ہیں۔ جس کا سب سے فوری اثر نقل و حمل اور سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ صنعتی یونٹوں تک خام مال کی ترسیل رک جاتی ہے‘ تیار مصنوعات منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتیں اور شہروں میں اشیائے خورونوش کی رسد متاثر ہونے سے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذاسیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر سیاسی جماعتوں کو ان کا حل تصادم کے بجائے مذاکرات‘ پارلیمانی مکالمے اور آئینی و قانونی راستوں میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں