مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی
امریکہ اور ایران کے درمیان عسکری تصادم کی نئی لہر نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر ایسی ہولناک اور بے قابو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں‘ جزیرہ قشم اور بندر عباس میں مختلف تنصیبات پر بمباری کی گئی جس کے جواب میں ایران نے اردن‘ کویت‘ بحرین‘ عراق اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ دو طرفہ حملوں کی حالیہ شدت یہ ظاہر کر رہی ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران امن کی جانب جو فاصلہ طے کیا گیا تھا‘ وہ شدید خطرے کی زد میں ہے۔ جنگ کی سنگین صورتحال‘ اس کے علاقائی اثرات اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے انسانی اور معاشی بحران نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انسانی المیہ اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب شہری اجتماعات اور سول تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے صوبہ ہرمزگان میں ایک ایسے گھر پر میزائل داغا گیا جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔اس موقع پر پانچ اموات کی اطلاعات ہیں۔

یہ حملہ رواں سال فروری میں بچیوں کے سکول پر امریکی میزائل حملے کا اعادہ ہے۔ شہری آبادی‘ سکولوں اور ہسپتالوں پر حملے نہ صرف جنگی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دینے اور جنگ کی آگ کو مزید بھڑکانے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بلاک کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے‘ جس نے عالمی معیشت کو مزید دھچکا پہنچایا ہے۔تیل کی قیمتیں اس وقت برطانوی منڈی میں 95ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز توانائی کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہ ہے‘ جہاں سے دنیا کو فراہم کیے جانے والے کل خام تیل کا تقریباً20 فیصد گزرتا ہے۔ ابھی دنیا مارچ‘ اپریل کے انرجی بحران ہی سے نمٹنے میں مصروف تھی کہ تازہ بندش نے تیل کی قیمتوں میں نیا اچھال برپا کر دیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں جبکہ رسد میں تعطل کے خدشے کی وجہ سے معاشی کساد بازاری کا خطرہ سنگین ہو چکاہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس بگڑتے ہوئے منظرنامے کے ہنگام پاکستان کا سفارتی محاذ پر مسلسل متحرک رہنا خوش آئند ہے۔
دفتر خارجہ نے حالیہ کشیدگی کو تشویشناک اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے‘ تاہم متحارب ممالک کی مذاکرات کی طرف واپسی کے حوالے سے عزم اور امید کا اظہار بھی کیا ہے۔ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ جنگ کبھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہو سکتی اور طاقت کا استعمال صرف تباہی لاتا ہے۔اسلام آباد نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیزی کے بجائے سفارتکاری سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں کیونکہ عالمی اور علاقائی امن کے تحفظ کا یہی واحد راستہ ہے۔ موجودہ تعطل کو ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کو مستقل بنیادوں پر پُرامن بنانے کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور فریم ورک معاہدہ ہی وہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے جو دونوں ممالک کو مستقل اور پائیدار جنگ بندی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی سے تیار کیا جانے والا یہ فریم ورک ایسا جامع دستاویز ہے جس میں دونوں ممالک کے جائز تحفظات کو دور کرنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے تمام ضروری نکات شامل کیے گئے۔ جنگ کی طوالت نہ تو واشنگٹن کو اس کے جیو پولیٹکل مقاصد حاصل کرنے میں مدد دے گی اور نہ ہی تہران کے تحفظات کو دور کر پائے گی۔ ضروری ہے کہ امریکہ اور ایران میدانِ جنگ کو چھوڑ کر اسلام آباد فریم ورک کے تحت مذاکرات کی میز پر آئیں۔ پائیدار امن اور عالمی استحکام صرف مذاکرات اور سفارتکاری میں ہی پنہاں ہے۔