پیداواری لاگت اور برآمدات
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ توانائی اور درآمدی لاگت میں اضافے کے باعث پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو کر اپنی مسابقتی حیثیت کھو رہی ہیں۔ مہنگی بجلی نے عام آدمی کی زندگی تو مشکل بنائی ہی ہے لیکن اسکے منفی اثرات پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث برآمدات میں کمی کی صورت میں ملکی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں ملکی برآمدات 30ارب 12کروڑ ڈالر تک محدود رہیں‘ جو مالی سال 2025ء کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد کم ہیں۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ مہنگی توانائی ہے۔

پاکستان میں بجلی علاقائی ممالک میں سب سے مہنگی ہے‘ چنانچہ وہ پاکستانی صنعت کار جو عالمی منڈی میں بھارت‘ بنگلہ دیش اور چین کے صنعت کاروں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے‘ انہیں ابتدا ہی میں لاگت کے ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برآمدات بڑھانے کیلئے محض اہداف مقرر کرنا کافی نہیں‘ اس کیلئے صنعت کو سستی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ برآمدی شعبوں کیلئے بجلی اور گیس کے نرخ علاقائی مسابقت کو سامنے رکھتے ہوئے مقرر کیے جائیں‘ غیر ضروری ٹیکس کم کیے جائیں اور ریفنڈز کی ادائیگی تیز کی جائے۔ پاکستان کو اس وقت محض زیادہ پیداوار نہیں بلکہ کم لاگت اور زیادہ مسابقتی پیداوار درکار ہے۔