غذائی قلت کے اثرات
بچوں اور خواتین میں غذائی قلت کے حوالے سے ایک کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کے باعث نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جبکہ اس بحران کے نتیجے میں ملک کو سالانہ 17 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ملک میں تقریباً ایک کروڑ بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں اور غذائی قلت کے باعث ہونیوالا سالانہ معاشی نقصان 17 ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ یہ نقصان صرف ان بچوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسکے اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ غذائی قلت سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے‘ انکی تعلیمی استعداد کم ہوتی ہے اور مستقبل میں انکی پیداواری صلاحیت اور آمدنی کے امکانات بھی گھٹ جاتے ہیں۔ دوسری طرف بیماریوں میں اضافے سے صحت کے اخراجات بڑھتے ہیں۔

اس بحران کی بنیادی وجوہات غربت اور عوام کی کم ہوتی قوتِ خرید ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 48 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے‘ ملک میں بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد ہے جبکہ مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا مشکل ہونا فطری امر ہے۔ بچوں کو معیاری خوراک کی فراہمی کیلئے ضروری ہے کہ گھرانوں کی آمدنی بڑھے‘ روزگار کے مواقع پیدا ہوں‘ مہنگائی خصوصاً خوراک کی قیمتوں پر قابو پایا جائے اور عوام کی حقیقی قوتِ خرید بحال کی جائے۔