نئے صوبوں کا جواز
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی تحریک التوا پر ہونے والی بحث اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قرارداد ملک میں انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبائی یونٹس کے جواز کو رد نہیں کر سکتی۔ ہمیں یہ مان کر چلنا ہوگا کہ ملکِ عزیز کے چاروں صوبے جس انتظامی اور جغرافیائی خدوخال میں ہمیں آج دکھائی دیتے ہیں یہ ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔ ہر صوبے کا جغرافیہ حالات اور تقاضوں کے مطابق وقت کے ساتھ تبدیل ہوا۔ صوبوں کے جغرافیائی خدوخال میں خالصتاً انتظامی ضرورتوں اور عوامی فلاح کے مقاصد سے تبدیلی کو آج بھی شجر ممنوعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک کا آئین بھی اس کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل ایک قابلِ بحث اور قومی اہمیت کا موضوع ہے‘ جس میں کسی کیلئے تشویش کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ دنیا بھر کے ممالک کی وفاقی اکائیوں میں انتظامی تقسیم معمول کا معاملہ سمجھا جاتا ہے‘ اور اسکی مثالیں ہمیں اس خطے کے کئی ممالک میں بھی مل جاتی ہیں کہ وقت کے ساتھ کس طرح صوبوں یا وفاقی اکائیوں کو تقسیم کیا گیا اور نئے صوبے تشکیل دیے گئے۔

ملکِ عزیز میں بھی اگر یہ معاملہ زیر بحث ہے تو اس پر سیاسی طوفان اٹھانے کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دلائل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جو نئے صوبوں کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ بنیادی دلیل یہ ہے کہ ہمارے چاروں صوبے اپنے آپ میں بے ڈول ہیں۔ کہیں کی آبادی دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے‘ کہیں کے مسائل بے پناہ اور لاینحل ہیں اور کہیں کی زمینی وسعتیں اس کے انتظامی مسائل کا سبب ہیں۔ ایسے میں کیوں نہ ان صوبوں کو مناسب رقبے اور علاقے کے حامل چھوٹے یونٹس میں تقسیم کردیا جائے تا کہ ان علاقوں کی حکومتیں اور انتظامی مشینری ان علاقوں کے انتظامات کو بہتر طور پر سنبھال سکیں اور عوام کیلئے ترقی کے امکانات پیدا ہوں۔ یہ کام صوبوں کی موجودہ حدود اور انتظامی ڈھانچے کیساتھ ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ تعلیم‘ صحت‘ معیشت‘ روزگار‘ انسانی ترقی‘ امن وامان‘ انصاف‘ شفافیت‘ غرض انسانی آبادی سے تعلق رکھنے والا ہر اشاریہ ہمارے ہاں تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں ہم دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں‘ 40 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں‘ 48 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے‘ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر ہیں‘ گلوبل ہنگر انڈیکس میں 123 ممالک میں 106 اور قانون کی حکمرانی میں 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہیں۔ 55 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں‘ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ پانچ سال سے سکول جانیوالے 50 فیصد بچے پڑھ نہیں سکتے‘ صحت اور انسانی ترقی کے دیگر اشاریے بھی یکساں پسماندگی ظاہر کرتے ہیں۔
اس صورتحال کیلئے کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانا قرینِ انصاف نہیں۔ حقیقت میں یہ ہماری اجتماعی ناکامیوں کا حاصل ہے‘ اور اسکے اسباب میں ہمارے صوبائی ڈھانچے‘ حکومتی اور انتظامی بدنظمی کا بنیادی کردار ہے۔ ان حالات میں صوبائی ڈھانچے میں مناسب تبدیلیاں ناگزیر معلوم ہوتی ہیں تاکہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے کئی کئی ممالک سے بڑے ان صوبوں کو کئی چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرکے بہتر نظام حکومت تشکیل دیا جا سکے۔ یہ کام کرنے والے ہم پہلے نہ ہوں گے۔ ہر ملک وقت کے ساتھ نئے انتظامی یونٹس قائم کرتا آیا ہے‘ ہمیں بھی اس سوال پر کسی تردد کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اس حوالے سے ہٹ دھرمی کے بجائے مکالمے کا رویہ اپنائیں‘ آزادانہ عوامی رائے کو سامنے آنے دیں اور نئے صوبوں کے مطالبے اور ضرورتوں کا بے لاگ تجزیہ کریں۔ یہی ملک وقوم کے حقیقی فائدے میں ہے‘ اور سیاسی جماعتوں کا اپنا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ ملک و قوم کے مسائل کو درست طور پر سمجھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کریں۔