اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم لیوی کا بوجھ

 سرکاری دستاویزات کے مطابق موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار کے آغاز‘ یعنی 4 مارچ 2024ء سے اب تک‘ اپنی ڈھائی سالہ مدت میں عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 3137ارب روپے وصول کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 2026ء میں 1567ارب‘مالی سال2025ء میں 1220 ارب جبکہ اپریل سے جون 2024ء کی سہ ماہی میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 299 ارب 63 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس وقت بھی حکومت پٹرول اور ڈیزل پر فی لٹر 80‘ 80 روپے پٹرولیم لیوی جبکہ 5‘ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی وصول کر رہی ہے۔ اسکے علاوہ پٹرول اور ڈیزل پر کاربن لیوی کی مد میں 50ارب روپے سے زائد الگ وصول کیے گئے۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعلق عالمی منڈی سے کم اور حکومت کی مالیاتی ضروریات سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی عوام کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا کہیں زیادہ بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی یہ پالیسی ناقص ٹیکس نظام اور مالیاتی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کا ناقابلِ برداشت بوجھ اٹھا رہے ہیں؛ پٹرولیم لیوی کی صورت میں انہیں مزید نچوڑنے کے بجائے حکومت اپنی مالیاتی اور ٹیکس پالیسی کی خامیوں کو دور کرے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں