اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئے صوبوں کا معاملہ

گزشتہ روز لاہور میں ’قومی پالیسی ڈائیلاگ‘ کے پلیٹ فارم سے سیاسی رہنماؤں‘ صحافیوں‘ صنعتکاروں اور وکلا نے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبائی یونٹس کی تشکیل کے حوالے سے فکر انگیز گفتگو کی اور معقول تجاویز سامنے آئیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا اس موقع پر خطاب بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے جنہوں نے سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور نئے صوبوں کی ضرورت و اہمیت کو واضح کیا۔ صوبوں کی انتظامی تقسیم قومی تقاضا ہے اور اسے عوامی فلاحی اور ترقیاتی نقطۂ نظر سے انجام دینا ہوگا۔ اس معاملے میں سیاسی موشگافیاں اور صوبائیت کی رنگ آمیزی کسی طرح جائز نہیں۔ اصولی طور پر اس معاملے میں عوامی رائے کا احترام کرنا ہو گا۔ اگر عوام کی مرضی ہے تو انتظامی یونٹس کے معاملے میں سیاسی حیل حجت بے معنی ہے‘ کیونکہ نئے صوبوں کے معاملے پر سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز عوام ہی ہیں۔ ملک کے چاروں صوبوں میں عوامی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں اور انتظامی مسائل چھوٹے انتظامی یونٹس کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔ کوئی صوبہ ایسا نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ عوام کے ان بنیادی مسائل سے نمٹ چکا ہے۔

تعلیم اور صحت کی محرومیاں‘ کم خوراکی کے عارضے‘ بے روزگاری کا کلنک‘ نوجوانوں کے مستقبل کی بے یقینی‘ سماجی بد امنی اور بڑھتے ہوئے جرائم‘ معاشی بدحالی‘ صنعتوں کی حالتِ زار۔ پاکستان کا کون سا صوبہ ہے جو اِن مسائل سے نکل سکا ہے؟ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو وافر مالی وسائل دستیاب ہونے کے باوجود یہ مسائل جوں کے توں ہیں؛ پس ثابت ہوا کہ مسائل کی وجہ وسائل کی کمی نہیں ان کی تقسیم کا ناقص نظام اور جوابدہی کا فقدان ہے‘ لہٰذا ضروری ہو جاتا ہے کہ مزید ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے مسئلے کو اُس کی بنیاد سے حل کرنے کی طرف آئیں۔ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ قومی مفادات کے ساتھ کھڑی ہوں۔ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا ہر فیصلہ قومی اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے‘ مگر سیاسی جماعتوں کو اس کام میں معاونت کرنی چاہیے اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے دلائل اور بنیادی حقائق کے معاملے میں سیاسی بصیرت کا ثبوت دینا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اگلے روز ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو میں اس حوالے سے جو کہا وہ خوش آئند ہے کہ ملک کی جتنی بڑی آبادی ہے ایسے میں چاروں صوبوں کے نظام کو ان کے موجودہ دارالحکومتوں سے نہیں چلایا جا سکتا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس مرکزیت کے ساتھ آبادی کا دباؤ ہے‘ سسٹم اوورلوڈڈ ہے لہٰذا انتظامی طور پر سسٹم میں توازن کی ضرورت ہے۔ عوام  کو اچھی تعلیم‘ صحت‘ صفائی‘ صاف پانی اور امن و امان چاہیے‘ یہ تمام ایشوزکسی سیاسی نعرے یا سیاسی جماعت کے مفاد سے بڑے ہیں؛ چنانچہ سیاسی جماعتوں کو اس بحث میں صحیح اور اصولی مؤقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے نہ کہ صوبوں کی تقسیم کے جائز مطالبے پر جذباتیت کی رو میں بہہ کر ایسی رائے قائم کر لیں جو عوامی اور قومی مفادات سے متصادم ہو۔ کوئی سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس کے اصولی مطالبے کو رد نہیں کر سکتی کیونکہ اس کیلئے زمینی حقائق واضح اور دوٹوک ہیں۔

پچھلے  79برس میں ملکی آبادی تین کروڑ 37لاکھ سے بڑھ کر 25کروڑ 90لاکھ تک پہنچ چکی مگر صوبائی ڈھانچہ وہی کا وہی ہے‘ شہر وہی ہیں اور سہولیات کی فراہمی کیلئے جو ادارہ جاتی نظام ہے اس کی گنجائش اور صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ان حالات میں کوئی ملک بھی ترقی کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتا۔ ہمیں آئندہ دو دہائیوں کے دوران ان بنیادی مسائل سے نکلنا ہو گا تاکہ پاکستان کی پہلی صدی کی تکمیل تک ہماری سمت اور رفتار درست ہو چکی ہو اور انسانی و معاشی ترقی تسلی بخش سطح پر پہنچ جائے۔ بے ڈول صوبائی ڈھانچے اور مسائل کے انبار کیساتھ یہ ممکن نہیں ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں