سائبر کرائمز‘ بڑا چیلنج
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سائبر کرائمز‘ غیر قانونی سموں اور شہریوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا کے حوالے سے سامنے آنیوالے انکشافات تشویشناک ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ این سی سی آئی اے نے ایک کارروائی کے دوران چھ لاکھ سے زائد شہریوں کا فنگر پرنٹس اور بائیو میٹرک ڈیٹا برآمد کیا جسے سمیں نکلوانے‘ مالی اور دیگر سنگین جرائم کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس کے دوران دوسروں کے نام پر جاری تقریباً ایک کروڑ 82لاکھ غیر قانونی سمیں بلاک کی جا چکی ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ شہریوں کا بائیو میٹرک ڈیٹا‘ جو اصولاً نادرا‘ بینکوں‘ ٹیلی کام کمپنیوں اور اس طرح کے دیگر اداروں کے پاس محفوظ ہونا چاہیے‘ جرائم پیشہ عناصر تک کیسے پہنچ رہا ہے؟ اگر ان اداروں کے اندر سے حساس ڈیٹا چوری ہو رہا ہے تو محض غیر قانونی سمیں بلاک کرنا یا چند ملزمان کی گرفتاری مسئلے کا حل نہیں۔

حکومت کو بائیو میٹرک تصدیق کے موجودہ طریقہ کار میں خامیوں کا جائزہ لے کر جدید ٹیکنالوجی‘ بالخصوص چہرے اور آنکھوں کی شناخت جیسے زیادہ محفوظ نظام متعارف کرانے چاہئیں۔ اس کیساتھ ساتھ ٹیلی کام کمپنیوں‘ بینکوں اور سرکاری اداروں کے ڈیٹا سسٹمز کا باقاعدہ سکیورٹی آڈٹ‘ ملازمین کی نگرانی اور ڈیٹا لیک میں ملوث عناصر کیخلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانا ہو گی۔ سائبر جرائم کے واقعات میں تحقیقات اور گرفتاریاں اپنی جگہ اہم ہیں مگر اصل کامیابی اس وقت ہو گی جب ان جرائم کیلئے استعمال ہونیوالے راستے ہی بند کیے جائیں۔