روٹی کی گرانفروشی
حکومتی دعوؤں کے باوجود ملک میں گراں فروشی کا بازار گرم ہے۔ باقی اشیائے خورونوش تو رہیں ایک طرف‘ روٹی کے سرکاری نرخوں پر بھی عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا رہا۔ پنجاب میں 100 گرام وزنی روٹی کی سرکاری قیمت 14روپے مقرر ہے لیکن یہ مختلف علاقوں میں 20سے 25روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ صوبے میں پرائس کنٹرول‘ انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعدد ادارے موجود ہیں‘ مگر گراں فروشوں کے سامنے تمام نظام بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ حکومت اگر اپنے ہی مقرر کردہ نرخوں پر عمل نہیں کرا سکتی تو اسے نرخ مقرر کرنے کی مشق پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے۔ دوسری طرف تنور مالکان مہنگی روٹی کا سبب مہنگی گندم اور ایل پی جی کے نرخوں میں اضافے کو قرار دیتے ہیں۔

لہٰذا حکومت کو گندم سے آٹے اور آٹے سے روٹی تک پوری سپلائی چین کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر کھیت سے تنور تک پہنچتے پہنچتے بنیادی اجناس کی قیمت کئی گنا بڑھ رہی ہے تو خرابی کہیں نہ کہیں نگرانی کے نظام میں موجود ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں‘ ایسے میں روٹی جیسی بنیادی ضرورت بھی ان کی دسترس سے دور ہونا حکومتی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو اب دعوئوں اور کارروائیوں کی نمائشی مشق سے آگے بڑھنا ہوگا۔