اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تیل کی قیمتیں

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے کی معیشت کے لیے تباہ کن ہے۔ منگل کے روز حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90 پیسے کا بھاری اضافہ ایسے وقت میں کر دیا جب عوام پہلے ہی پٹرولیم قیمتوں میں سلسلہ وار اضافے سے ہلکان ہیں۔ توانائی کے وسائل بنیادی ضروریاتِ زندگی کی جنس ہیں۔ جب پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر سبزیوں‘ دالوں‘ ادویات اور کارخانوں میں بننے والی اشیا اور خدمات کی اجرت تک‘ ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے۔ بنیادی ضرورت کی اشیا کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے سبب غریب کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہے اور سفید پوش طبقہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس صورتحال کا ایک تشویشناک اور تضاد سے بھرپور پہلو یہ ہے کہ ایک طرف حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ پٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں میں ریلیف کیلئے مذاکرات کر رہی تھی تو اسی دوران یکلخت پٹرول کی قیمت میں بھاری اضافہ کر دیا گیا۔

اگرچہ قیمتوں میں اضافے کو عالمی مارکیٹ کا ردِعمل قرار دیا جاتا ہے مگر یہ جواز اس وقت عذرِ لنگ ثابت ہوتا ہے جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ رواں سال جولائی میں حکومت نے ہائی سپیڈ ڈیزل کا ایک لیٹر بھی درآمد نہیں کیا مگر اسی دوران ڈیزل کی قیمت 311 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 393روپے ہو گئی‘ یعنی تقریباً 82 روپے اضافہ ہوا۔ اس وقت حکومت کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں پٹرول پر 114 روپے جبکہ ڈیزل پر 100روپے فی لیٹر وصول کر رہی جن میں 80روپے کی لیوی بھی شامل ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق لیوی کی جائز شرح 40 سے 45 روپے تک ہونی چاہیے مگر حکومت اپنی آمدنی بڑھانے کیلئے پٹرولیم کے محصولات میں مناسب کمی سے انکاری ہے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے اعتراضات کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔ مالی سال2025ء میں 1220 ارب اور مالی سال 2026ء میں 1567 ارب روپے لیوی کی مد میں اکٹھے کیے گئے جبکہ رواں مالی سال کیلئے لیوی کا ہدف 1676ارب روپے رکھا گیا ہے۔

یوں ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کا تعلق عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے کم اور حکومتی مالیاتی وصولیوں سے زیادہ ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے پر عوام پر ان کے اثرات کو کم سے کم منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کرتی ہیں لیکن ملکِ عزیز میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور عالمی منڈی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ حکومتی محصولات کی بلند شرح مرے پر سو درے ثابت ہو رہے ہیں۔ یہاں عالمی مارکیٹ کی معمولی لہر کو بھی مقامی مارکیٹ کیلئے ایک بڑے طوفان میں بدل دیا جاتا ہے تاکہ حکومت اپنے ٹیکس خسارے کو غریب عوام کی جیبوں سے پورا کر سکے۔ معیشت کا مطلب صرف زرِمبادلہ کے ذخائر یا کرنٹ اکائونٹ نہیں بلکہ ملکی معیشت کا اصل عکس عام آدمی کے بجٹ میں نظر آتا ہے۔ معاشی استحکام تبھی پائیدار ہوتا ہے جب اس کے ثمرات نیچے تک پہنچیں‘ ورنہ کھوکھلی ترقی عوامی محرومیوں کا مداوا نہیں کر سکتی۔

حکومت کو عالمی مارکیٹ میں ہونے والے اضافے کا مقابلہ پٹرولیم لیوی اور ڈیوٹیز میں کمی سے کرنا چاہیے تھا تاکہ قیمتیں مستحکم رہیں اور عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے‘ لیکن حکمرانوں نے آسان ترین اور بالواسطہ ٹیکسوں کا جو راستہ چنا ہے وہ معاشی عتاب کی بدترین مثال ہے۔ان حالات میں حکومت کو اپنے اخراجات‘ مراعات اور غیر ترقیاتی مصارف میں کمی کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا یہ سلسلہ عام آدمی کی معیشت کے لیے تباہ کن ہے۔کہتے ہیں آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑتا ہے۔یہ صورتحال اگر درست فیصلوں کے ذریعے سنبھالی نہ گئی تو سخت عوامی ردِعمل کے اندیشے خارج از امکان نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں