اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

چالانوں کی بھرمار، ٹریفک بد حال

اگلے روز لاہور میں برکی روڈ پر ٹریفک جام کے باعث ایک نوجوان بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکا اور ایمبولینس میں دم توڑ گیا۔  خبر کے مطابق مریض کو لے جانے والی ایمبولینس تقریباً ایک گھنٹہ ٹریفک جام میں پھنسی رہی مگر اس دوران کوئی ٹریفک اہلکار ٹریفک سنبھالنے کیلئے وہاں نہ پہنچا۔ جس شہر میں ٹریفک پولیس ٹریفک کو منظم کرنے سے زیادہ چالانوں میں مصروف نظر آئے وہاں ٹریفک جام سے ایسے سانحات حیران کن نہیں۔ سٹی ٹریفک پولیس لاہور کے مبینہ اعداد و شمار کے مطابق صرف اگست کے مہینے میں چار لاکھ سے زائد چالان کیے گئے۔ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ٹریفک اہلکار سڑکوں پر ٹریفک رواں رکھنے کے بجائے ہر اشارے اور ہر شاہراہ پر صرف چالان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پریقینا چالان بھی ہونے چاہئیں مگر ٹریفک پولیس کا بنیادی فرض ٹریفک کو رواں رکھنا اور ضرورت کے وقت فوری رسپانس دینا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور چالانوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے‘ لیکن سڑکوں پر ٹریفک بدنظمی کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ٹریفک مینجمنٹ کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ جو فورس شہریوں کو سڑکوں پر سہولت دینے کیلئے ہونی چاہیے تھی اسے عملاً ریونیو جمع کرنے والی فورس بنا دیا گیا ہے۔ یہ روش فوری طور پر تبدیل کرنا ہوگی تاکہ سڑکوں پر منظم ٹریفک کی روانی یقینی بنائی جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں