اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کراچی، جرائم بے قابو

کراچی میں سٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی شرح صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ایک خبر کے مطابق اگست کے دوران شہر قائد میں قتل کے 44‘ موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کے 3180‘ گاڑی چوری کے 140‘ موبائل فون چھیننے کے 1884 اور بھتہ خوری کے آٹھ واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس حساب سے کراچی میں اگست کے دوران روزانہ اوسطاً 102سے زائد شہری موٹر سائیکل اور 60 سے زائد موبائل فون سے محروم ہوئے۔ پہلے ہی بے ہنگم آبادی‘ بنیادی سہولتوں کی کمی اور شہری مسائل سے دوچار کراچی میں اگر جان و مال کا تحفظ بھی یقینی نہ ہو تو شہری زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ کراچی محض ملک کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔

بندرگاہوں‘ صنعت‘ تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کے باعث ملکی معیشت میں اس شہر کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیتے وقت کراچی کی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ لہٰذا صوبائی حکومت‘ کراچی کی ضلعی انتظامیہ‘ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس مسئلے پر باہمی تعاون سے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔ اس ضمن میں سیف سٹی نظام کو مؤثر‘ فعال اور نتیجہ خیز بنانا ہوگا تاکہ روشنیوں کے شہر کے باسی خوف کے بجائے اعتماد کیساتھ زندگی گزار سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں