صحت کی ناکافی سہولتیں
ایک خبر کے مطابق پنجاب کے 33 ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں سے صرف دو میں ایم آر آئی کی سہولت موجود ہے۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال ہر ضلع میں بنیادی طبی ضرورتوں کا مرکزی ادارہ ہوتا ہے‘ وہاں ایم آر آئی جیسی اہم سہولت کا فقدان صحت عامہ کے نظام میں موجود بنیادی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان ہسپتالوں میں ایم آر آئی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے عام شہری کو مہنگے نجی تشخیصی مراکز سے یہ ٹیسٹ کرانا پڑتا ہے یا بڑے شہروں‘ بالخصوص لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ یوں نہ صرف مریض اور اسکے اہل خانہ کے سفری و علاج کے اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ بڑے سرکاری ہسپتالوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھتا ہے۔ حال ہی میں سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی عدم دستیابی‘ مریضوں کے علاج سے متعلق شکایات اور طبی عملے کی کمی جیسے مسائل سامنے آئے ہیں۔

صحت کا شعبہ مجموعی طور پر زبوں حالی کا شکار ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں لازمی طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائے۔ ایم آر آئی‘ سی ٹی سکین اور ایمرجنسی سہولتوں کیساتھ دل‘ کینسر‘ فالج‘ گردوں اور دیگر سنگین امراض کیلئے جہاں ضرورت ہو خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں۔ صحت کا حقیقی معیار صرف ہسپتالوں کی عمارتیں کھڑی کرنا نہیں بلکہ تمام طبی سہولتوں کی فراہمی سے طے ہوتا ہے تاکہ ہر شہری کو بروقت تشخیص اور معیاری علاج کی سہولتیں اپنے ضلع میں میسر آ سکیں۔ حکومت کو صحت کے شعبے میں اسی بنیادی اصول کو اپنی ترجیح بنانا چاہیے۔