عالمی تیل بحران اور خدشات
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر گئی ہے جس نے تیل کی درآمدات پر انحصار کرنیوالے ممالک بالخصوص پاکستان کی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دوسری طرف یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر مُخا پر قبضے اور پیش قدمی سے باب المندب کی بحری گزرگاہ بھی عدم تحفظ کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان‘ جو پہلے ہی معاشی عدم استحکام‘ افراطِ زر اور پٹرولیم بحران کا سامنا کر رہا ہے‘ اس نئی عالمی لہر کے بعد مہنگائی کے ایک نئے گرداب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ستمبر کے پہلے عشرے میں ہی حکومت پٹرول کی قیمت میں تقریباً25روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 22 روپے فی لٹر سے زائد کا اضافہ کر چکی ہے۔ یہ اضافہ صرف پٹرولیم مصنوعات تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کا براہِ راست اثر ملک کے غریب اور متوسط طبقے کی جیب‘ قوتِ خرید اور روزمرہ زندگی پر پڑ ے گا۔ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ مال بردار گاڑیوں پر ایندھن کا بوجھ بڑھنے سے کارخانوں کا خام مال اور دیہی علاقوں سے شہروں تک پہنچنے والی زرعی اجناس سمیت سب کچھ مہنگا ہونے کا خدشہ ہے‘ جس سے بالآخر ملک کا ہر شہری متاثر ہو سکتا ہے۔ موجودہ بحران کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت عام صارف پر دہرا بوجھ ہے۔ ایک طرف بین الاقوامی سیاسی حالات‘ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اور سپلائی چین میں رکاوٹیں ہیں‘ جو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو ہوا دینے کا سبب رہی ہیں۔

دوسری طرف داخلی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی‘ ٹیکسز اور مختلف ڈیوٹیز کا بوجھ ہے جو عوام کیلئے مسائل کو بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پٹرول کی فی لیٹر لاگت تقریباً 238 روپے ہے‘ تاہم اس کی قیمت فروخت 370 روپے سے زائد ہے۔یعنی پٹرول پر فی لٹر تقریباً 131 روپے جبکہ ڈیزل پر 122 روپے فی لٹر لیوی‘ ٹیکسز‘ ڈیوٹیز اور کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ایک تہائی سے زائد حصہ لیوی‘ ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا ہے۔ حکومت اپنے مالیاتی خسارے اور آئی ایم ایف کے ٹیکس ہدف کو پورا کیلئے پٹرولیم لیوی کو ایک آسان ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے لیکن اسکی قیمت عوام کو براہِ راست مہنگائی اور افراطِ زر کی صورت میں چکانا پڑتی ہے۔پاکستان جیسا ملک‘ جہاں 45 فیصد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے‘ جہاں نصف کے قریب آبادی کو دو وقت کی روٹی بمشکل میسر آ پاتی ہے‘ کیا وہ پٹرول جیسی بنیادی ضرورت پر اس قدر بھاری ٹیکسزکا جواز رکھتا ہے؟ بدلتی جیو پولیٹکل صورتحال اور تیل کے سنگین ہوتے عالمی بحران کے پیش نظر اب ضروری ہو چلا ہے کہ حکومت نہ صرف پٹرولیم مصنوعات پر سے لیوی اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کرے بلکہ غریب اور محنت کش طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی سکیم پر غور و خوض کرے۔
آج کے حالات میں جب ڈیزل اور پٹرول عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں‘ رواں سال اپریل میں جاری کردہ پٹرول سبسڈی سکیم جیسے ریلیف اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حکومت کو اب اس جواز کی اوٹ سے باہر نکلنا ہو گا کہ عالمی منڈی کی قیمتیں اسکے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ عالمی مارکیٹ بھلے اس کے دائرہِ اختیار سے باہر ہو لیکن داخلی ٹیکسوں کا نظام اور سبسڈی مکمل طور پر اسکے دستِ اختیار میں ہیں۔ عوام اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں حکومت کو عوامی ٹرانسپورٹ‘ مال بردار گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کیلئے بالخصوص ٹارگٹڈ سبسڈی کا ایک شفاف طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس بحران میں ٹیکس اہداف کے بجائے انسانی زندگیوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنایا جائے۔