سرکاری اداروں کا خسارہ
کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی کاروباری اداروں کے حالیہ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق قومی خزانے پر سرکاری کاروباری اداروں کا بوجھ کم ہونے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق 2025ء کی دوسری ششماہی کے دوران خسارے میں چلنے والے سرکاری کاروباری اداروں کا مجموعی خسارہ 342 ارب 80 کروڑ روپے رہا‘ جبکہ منافع بخش سرکاری اداروں کے منافع میں بھی 91 فیصد کمی آئی‘ جو 2024ء کی دوسری ششماہی کے 427ارب روپے کے مقابلے میں 2025ء کی اس مدت میں محض 35 ارب روپے رہ گیا۔ حکومت کی جانب سے اصلاحات اور سرکاری کاروباری اداروں پر غیرمعمولی اخراجات کے باوجود ان اداروں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت کا فقدان افسوسناک ہے۔

ہر سال ان اداروں پر سالانہ کھربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں‘ مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ ان سرکاری کارپوریٹ اداروں پر غیر معمولی رقم خرچ کرنے کے باوجود نہ تو عوام کو سستی خدمات ہی میسر آ پاتی ہیں‘ اور نہ ہی قومی خزانے کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ سرکار کی ملکیت میں چلنے والے کاروباری اداروں کا خسارہ اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ حکومت کیلئے ان کو چلانا نا ممکن ہو چکا ہے۔ ان اداروں کی بہتری کیلئے اب محض سبسڈی یا وقتی اصلاحات کافی نہیں‘ اس مسلسل خسارے کا مستقل اور پائیدار حل ان کی مرحلہ وار‘ شفاف اور قومی مفادات کے تحت کی جانے والی نجکاری ہے‘ جس میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔