اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم بحران اور مجوزہ لاک ڈائون

مشرقِ وسطیٰ کے سنگین ہوتے بحران اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے سبب پاکستان کو اس وقت شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے اور اس دبائو نے حکومت کو ہنگامی اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر اس وقت تیل کی قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ ہیں جبکہ سپلائی لائن کی بندش کا معاملہ بھی سنگین ہو گیا ہے۔ ان حالات میں وفاقی سطح پر ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ نافذ کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت سرکاری اور نجی دفاتر میں ہفتے میں محض چار دن کام کرنے اور جمعہ‘ ہفتہ اور اتوار کے روز بازاروں اور کاروباری مراکز کو مکمل بند رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد ایندھن کی کھپت کو کم اور روزمرہ کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے تاکہ قومی خزانے پر تیل کے درآمدی بل کو کم کیا جا سکے۔ تاہم یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اس قسم کی پابندیاں معیشت کو عارضی ریلیف فراہم کریں گی یا معاشی اور سماجی بحران کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنیں گی۔

محسوس ہوتا ہے کہ مجوزہ لاک ڈاؤن میں محض سرکاری ملازمین کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے حالانکہ معاشرے کے انتہائی کمزور طبقے یعنی دیہاڑی دار مزدوروں پر اسکے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ ملکی معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی شعبے پر انحصار کرتا ہے‘ جہاں لاکھوں افراد روزانہ کی بنیاد پر کما کر اپنے گھروں کا چولہا جلاتے ہیں۔ اگر بازار اور تجارتی سرگرمیاں ہفتے میں تین دن کیلئے معطل کر دی جائیں گی تو ریڑھی بانوں‘ دکانوں پر کام کرنیوالے ہیلپرز اور دیہاڑی دار مزدوروں کی آمدنی شدید متاثر ہو گی۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز میں نچلے اور پسماندہ طبقے کے معاشی تحفظ کا کوئی ٹھوس اور جامع منصوبہ اب تک سامنے نہیں آ سکا۔ لہٰذا لازم ہے کہ ایسے کسی بھی فیصلے سے قبل اسکے مضمرات اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا عمیق جائزہ لیا جائے۔ ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ توانائی کی بچت اور معاشی بحرانوں سے نمٹنے کیلئے پہلے بھی سمارٹ لاک ڈاؤن‘ بازاروں کی جلد بندش اور کام کے اوقات میں کمی جیسے حربے آزمائے گئے۔ کورونا کی عالمی وبا کے دوران اور رواں سال مارچ‘ اپریل میں ایندھن اور بجلی کی بچت کیلئے ایسے ہی فیصلے کیے گئے تھے مگر انکا کوئی خاطر خواہ اور پائیدار نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ کاروباری اوقاتِ کار کو محدود کرنے سے گاڑیوں اور ایندھن کے استعمال میں کمی نہیں آتی بلکہ محض وقت تبدیل ہو جاتا ہے۔

کاروباری دن اگر کم کر دیے جاتے ہیں تو باقی دنوں میں رش اور دباؤ دُگنا ہو جاتا ہے۔ 2023ء میں پانچ سالہ قومی بجلی منصوبہ بھی پیش کیا گیا تھا‘ سوال یہ ہے کہ نصف سے زائد مدت گزر چکی‘ اس پر کیا پیشرفت ہے؟ ماضی کے یہ تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سطحی اقدامات درپیش مسئلے کا پائیدار حل فراہم نہیں کر سکتے۔ پٹرولیم بحران کا اصل اور پائیدار حل تو ماحول دوست اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے فروغ میں پنہاں ہے۔ حکومت کو شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ فرنس آئل پر انحصار بتدریج کم ہو سکے۔ دوسری جانب اس وقت بڑے شہروں میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ شہر کے دس سے پندرہ فیصد حصے کو ہی کور کرتی ہے‘ جسکے باعث نجی سواری ایک ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔ مربوط‘ جامع‘ بروقت اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ہی سڑکوں سے نجی ٹریفک کے بوجھ کو حقیقتاً کم کر سکتا ہے۔ سب سے اہم اقدام حکومتی سطح پر کفایت شعاری کا حقیقی مظاہرہ ہے۔

یہ مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے کہ پٹرول بچانے کیلئے غریب کی دکان تو بند کرا دی جائے لیکن حکومتی اراکین اور سرکاری افسران کے پروٹوکولز اور پٹرول کوٹے میں کوئی کمی نہ کی جائے۔ عوام پر پابندیاں عائد کرنے سے پہلے حکمرانوں کو خود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کے بجائے طویل مدتی معاشی اصلاحات پر توجہ دے تاکہ ملک کو مستقل بنیادوں پر ایسے بحرانوں سے نکالا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں