اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بڑھتے جرائم

سندھ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صوبے بھر کے تھانوں میں مختلف جرائم میں ملوث مفرور اور اشتہاری ملزمان کی مجموعی تعداد 77 ہزار سے زائد ہو چکی ہے‘ جبکہ صرف رواں سال کے دوران مفرور ملزمان کی تعداد میں 20 ہزار سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں مفرور اور اشتہاری ملزمان کا آزادانہ گھومنا معاشرے کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ ایسے افراد نہ صرف دوبارہ جرائم میں ملوث ہوسکتے بلکہ اپنے گروہوں‘ سہولت کاروں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ذریعے قانون کی عملداری کو کمزور بنا سکتے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار صوبہ سندھ میں جرائم کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں کہ رواں سال کے دوران سندھ میں 1100سے زائد افراد قتل ہوچکے‘ جبکہ ڈکیتی‘ راہزنی‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری جیسے جرائم بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ شہریوں کا تحفظ‘ قانون کی بالادستی اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو جدید وسائل‘ مطلوبہ نفری‘ جدید ٹیکنالوجی‘ فرانزک سہولتیں اور بہتر تربیت فراہم کرے تاکہ جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں