لوڈشیڈنگ، مستقل حل درکار
لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر رات کے اوقات میں چار سے پانچ گھنٹے تک غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اس کی بنیادی وجہ رات کے وقت طلب میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ دن کے اوقات میں شمسی توانائی کے باعث گرڈ پر طلب نسبتاً کم رہتی ہے مگر شام ڈھلتے ہی سولر سسٹم کی پیداوار کم ہونے سے طلب بڑھ جاتی ہے اور نظام پر دباؤ آ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران کو محض طلب میں اضافے یا پیداوار میں کمی سے تعبیر کرنا مسئلے کی اصل نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں طلب سے زیادہ اضافہ کیا گیا‘ مگر ہر جگہ اسی تناسب سے ترسیل اور تقسیم کا نظام مضبوط نہیں کیا گیا۔

دوسری طرف مہنگی بجلی نے صارفین کو سولر کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا ہے۔ یوں گرڈ کی فروخت کم ہونے کیساتھ مقررہ اخراجات نسبتاً کم یونٹس پر تقسیم ہوتے ہیں اور مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سولر توانائی مسئلے کی وجہ ہے۔ حقیقت میں قابلِ تجدید توانائی ملک کیلئے ایک اہم موقع ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سولر کو گرڈ کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے ایک مربوط توانائی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ لوڈشیڈنگ کا مستقل خاتمہ محض مزید زیادہ بجلی پیدا کرنے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی‘ مضبوط ترسیل‘ محفوظ تقسیم‘ مؤثر نگرانی اور جدید توانائی ٹیکنالوجی کو باہم مربوط کرنا ہو گا۔