اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

افغان دراندازی کا مسکت جواب

پاکستان نے افغانستان سے ہونیوالی فضائی دراندازی کا بروقت اور دندان شکن جواب دیتے ہوئے گزشتہ روز افغان سرزمین پر ڈرون ذخیرہ کرنے اور انہیں لانچ کرنے والے دس اہم ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ 23ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستان میں آٹھ ڈرون لانچ کیے گئے تھے تاہم پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام درانداز ڈرونز کا بروقت سراغ لگا کر انہیں ٹریک کیا اور متعین اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی انہیں ناکارہ بنا کر افغان حملے کی کوشش کو زائل کر دیا۔ مگر یہ اقدام یہیں تک محدود نہیں رہا۔ چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے افغانستان میں ایسے دس مقامات کی نشاندہی کی جہاں سے یہ ڈرونز لانچ کیے گئے یا جہاں ڈرون ذخیرہ کیے جاتے تھے۔ پاکستان کے محدود نوعیت کے حملوں نے صرف ان مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جو پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کی کوششوں سے براہِ راست منسلک تھے۔ یہ تزویراتی اقدام پاکستان کی جانب سے نہ صرف اپنی خودمختاری‘ جغرافیائی حدود اور معصوم شہریوں کے تحفظ کے مصمم عزم کا اظہار ہے بلکہ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں ناقابلِ تسخیر اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کس قدر بیدار ہے۔

اسلام آباد کی جانب سے دو ٹوک انداز میں افغانستان کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اگر افغانستان کی عبوری انتظامیہ یا وہاں موجود دہشت گرد گروہوں نے پاکستان کی سالمیت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین اور عبرتناک ہوں گے۔ اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو یہ مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور پُرامن پڑوسی کا کردار ادا کیا ہے لیکن کابل کی جانب سے پاکستان کی سفارتی بردباری اور صبر کو نہ صرف کمزوری پہ محمول کیا جاتا رہا بلکہ بار بار یہ فاش غلطیاں دہرائی گئیں۔ گزشتہ سال بھی اکتوبر میں افغانستان کی جانب سے پاکستان کی سرحدوں پر کھلم کھلا حملے اور ڈرون حملوں کی بزدلانہ کوششیں کی گئی تھیں جنہیں پاکستانی فوج نے کمالِ مہارت سے ناکام بنا دیا۔ بعد ازاں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام میں متعدد نشستیں بھی ہوئیں مگر افغان عبوری انتظامیہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت دینے میں ناکام رہی جس کے سبب کشیدگی میں کمی نہ آ سکی۔پاکستان نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی توسیع پسندانہ سوچ کا حامل نہیں بلکہ خطے میں امن کے قیام کا خواہاں ہے؛ البتہ اپنے گھر کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے۔ اگر کابل حکومت نے اب بھی کوئی سبق نہ سیکھا اور اپنے جارحانہ رویے پر قائم رہی تو تمام تر سنگین اثرات اور مضمرات کی تمام تر ذمہ داری اس پر عائد ہو گی۔ پاکستان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا! ریاستِ پاکستان اب مزید کسی رعایت یا نرمی کی کوئی گنجائش نہیں رکھتی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ افغان قیادت ہوش کے ناخن لے اور اپنی سرزمین پر جاری پاکستان کیخلاف تمام تر مخاصمانہ سرگرمیوں‘ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور دراندازی کی کوششوں کو فی الفور بند کرے۔ کابل کو یاد رکھنا چاہیے کہ دوحہ معاہدے کے تحت وہ اس بات کا پابند ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کیخلاف دہشت گردی یا سکیورٹی خطرات پیدا کرنے کیلئے استعمال نہ ہو۔ اگر افغانستان خطے میں امن اور اپنے عوام کیلئے خوشحالی چاہتا ہے تو اسے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی چھوڑ کر ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دینا ہو گا‘ ورنہ پاکستان کو چھیڑنے کی افغان مہم جوئی اس کے اپنے وجود کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں