اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

لانگ مارچ مؤخر!

پاکستان تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کیے جانے کی اطلاعات خوش آئند ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر لانگ مارچ کی تاریخ چار اکتوبر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے اس متوقع احتجاج کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور گرد ونواح میں سخت رکاوٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ سڑکوں پر جابجا رکاوٹیں اور دوسری تدابیر کی وجہ سے آمدورفت میں مشکلات شہریوں کیلئے پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ دوسری جانب احتجاج کے ملکی معیشت پر جو منفی اثرات ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کچھ روز پہلے یومیہ 120 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ پیش کیا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی حجم ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس کا نصف بلکہ تیسرا حصہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ایسی صورتحال میں جب عالمی حالات و واقعات اور ملکی معاشی صورتحال کے باعث مہنگائی پہلے ہی انتہائی بلند سطح پر ہے اور قوتِ خرید سکڑ چکی ہے‘ احتجاج کی سیاست کے اثرات عوامی معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہو تے ہیں۔ داخلی صورتحال‘ خاص طور پر امن وامان کے مسائل بھی اس کی اجازت نہیں دیتے کہ ملک میں ایسا ماحول پیدا ہو جس کی آڑ میں ملک دشمن عناصر کو تخریب کاری اور دہشت گردی کا موقع ملے؛ چنانچہ پی ٹی آئی کا مارچ ملتوی کیے جانے کا فیصلہ خوش آئند اور قومی مفاد میں ہے اور یہ ایسا امکان پیدا کرتا ہے جس سے سیاسی انتشار کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس سے قبل جماعت اسلامی جو مہینہ بھر سے پٹرولیم لیوی کیخلاف دھرنے دیے بیٹھی تھی اور کراچی سے ٹرین مارچ شروع کر چکی تھی مگر وزیراعظم شہباز شریف کی بروقت مداخلت سے یہ مارچ مؤخر کر دیا گیا۔ یوں حکومت کو جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی کے حوالے سے اعتراضات اور مطالبات پر ازسر نو غور کرنے کا موقع مل گیا۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کو مؤخر کیے جانے کا فیصلہ بھی حکومت کو اسکے مطالبات پر غور کرنے اور جائز مطالبات پورے کر کے اس سیاسی تنازعے کے حل کا موقع پیدا کرتا ہے۔ قانون کے دائرے میں احتجاج کو جمہوری حق مانا جاتا ہے مگر یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ اسکی نوبت نہ آئے اور معاملات افہام وتفہیم کیساتھ حل ہو جائیں کیونکہ احتجاج بیشک شروع میں جائز قانونی دائرے میں ہوں‘ پھیلتے اور بڑھتے ہوئے عموماً اس سطح پر پہنچ جاتے ہیں کہ قانونی حدود کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ حکومت کو ایسی صورت میں قانون کی طاقت کے استعمال کا اختیار ہوتا ہے مگر اسکے اثرات خوشگوار نہیں ہوتے۔ انتظامی طور پر حکومت بیشک احتجاج ناکام بنانے میں کامیاب ہو جائے مگر عوام کی یادداشت اور صفحہ ہائے تاریخ میں جو واقعات رہ جاتے ہیں انکی تلخیاں تادیر ختم نہیں ہوتیں۔ احتجاج کو ناکام بنانے کی انتظامی صلاحیتوں کے باوجود حکومت کی اولین ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ وجۂ تنازع مطالبات پر بات چیت کے ذریعے پیشرفت کو ممکن بنایا جائے۔

جیسا کہ جماعت اسلامی کے ٹرین مارچ کے معاملے میں ہوا کہ وزیراعظم نے بیرونِ ملک سے فون کیا اور معاملات کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ تحریک انصاف کے معاملے میں بھی اسی سپرٹ اور سیاسی دور اندیشی کی ضرورت ہے تاکہ ملک احتجاج کے نقصانات اور شہری بے پناہ اذیتوں سے بچ سکیں۔ سیاسی جماعتوں کو بات چیت کیلئے ہمیشہ فراخدل ہونا چاہیے اور ہر ممکن حد تک ٹکراؤ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ سیاسی اختلافات خواہ کتنے ہی سنجیدہ اور پیچیدہ کیوں نہ ہوں بات چیت کے ذریعے حل طلب ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ حکومت کیلئے نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ سیاسی سطح پر فریق مخالف سے بات چیت شروع کرے اورمعاملات کو نمٹانے کی کوشش کی جائے تا کہ ملکی سطح پر سیاسی انتشار کا ماحول قومی مفاہمت میں تبدیل ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں