اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

صنعتی شعبے کی زبوں حالی

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہر کے مسلسل سکڑتے صنعتی شعبے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسی موقع پر انہوں نے 2035ء تک ملک کو ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔یہ حقیقت ہے کہ کوئی ملک مضبوط صنعتی بنیاد کے بغیر پائیدار معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ رواں برس جنوری میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس فیصل آباد میں 150 سے زائد صنعتی یونٹس بند ہوئے‘ جس سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد روزگار سے محروم ہو گئے۔ ملک میں ٹیکسٹائل سمیت صنعتی شعبے کو مجموعی طور پر درپیش مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔

مہنگی بجلی اور گیس‘ بلند ٹیکس‘ خام مال کی بڑھتی لاگت‘ پالیسیوں میں غیر یقینی اور توانائی کی قیمتوں میں بار بار تبدیلیاں پاکستانی مصنوعات کی عالمی مسابقت متاثر کر رہی ہیں۔ حکومت کو صنعتی شعبے کو اولین ترجیح بناتے ہوئے برآمدی صنعت کو علاقائی حریفوں کے مقابل مسابقتی نرخوں پر بجلی اور گیس فراہم کرنی چاہیے‘ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا چاہیے‘ ریفنڈز کی بروقت ادائیگی‘ خام مال کی درآمد میں رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں‘ صنعتی قرضوں کی لاگت کم کرنا اور پالیسیوں میں تسلسل بھی یقینی بنانا چاہیے۔ صنعتوں کی زبوں حالی کے ساتھ ملک کو ایک ہزار ارب ڈالر کی معیشت بنانا ممکن نہیں۔ حکومت کو اعلانات سے آگے بڑھ کر ایسے عملی اقدامات کرنا ہوں گے جو ملک کے کارخانے چلائیں‘ روزگار پیدا کریں اور ملکی مصنوعات کو عالمی منڈی میں واقعی مسابقت کے قابل بنائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں