مہنگائی اور عام آدمی
وفاقی ادارۂ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ڈیزل‘ پٹرول‘ ایل پی جی‘ بجلی‘ آٹا‘ دودھ اور پیاز سمیت 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح تقریباً 12 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ سماجی بے چینی میں روز بروز اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ کم آمدنی والے گھرانے اپنی آمدن کا بڑا حصہ خوراک‘ بجلی‘ گیس‘ ایندھن وغیرہ پر صرف کرتے ہیں۔ چنانچہ ان اشیا کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان کے بجٹ میں معمولی نہیں رہتا؛ اور وہ خوراک کے معیار‘ بچوں کی تعلیم‘ علاج یا دیگر ضروریات میں کٹوتی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات اپنی جگہ‘ اندرون ملک کمزور رسد‘ ذخیرہ اندوزی‘ مصنوعی قلت‘ منڈیوں کی کمزور نگرانی اور توانائی کے بلند اخراجات جیسے عوامل بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ اسلئے حکومت کی مہنگائی کیخلاف حکمت عملی محض قیمتیں کنٹرول کرنے یا عارضی ریلیف دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کو توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں کمی‘ منڈیوں میں شفافیت یقینی بنانے‘ مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کیخلاف مؤثر کارروائی کرنے اور اشیائے ضروریہ کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح عوام کی آمدن اور قوتِ خرید میں اضافہ مہنگائی کیخلاف اقدامات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔