نیا نصاب
پنجاب کے سرکاری سکولوں میں مونٹیسوری سے پانچویں جماعت تک نصابی کتب کا بوجھ 25فیصد کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو تعلیم کا حصہ بنانے کی منظوری خوش آئند ہے۔ یہ فیصلہ اس امر کا عکاس ہے کہ صوبے میں روایتی طرزِ تعلیم سے آگے بڑھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں ایک عرصے سے ایسا تعلیمی نظام رائج ہے جس میں بچوں پر نصاب کا غیرضروری بوجھ ڈالنے اور معلومات یاد کرنے کو سیکھنے پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود عملی زندگی کی ضروری مہارتوں اور جدید علوم سے محروم رہتے ہیں۔ تاہم اصل امتحان صرف نیا نصاب تیار کرنا نہیں بلکہ اسے مؤثر انداز میں لاگو کرنا ہے۔

نئے مضامین اور جدید ٹیکنالوجی اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوں گے جب سرکاری سکولوں کے اساتذہ خود ان پر دسترس رکھتے ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ نصاب کی تبدیلی کیساتھ اساتذہ کی مسلسل تربیت‘ مجموعی تعلیمی معیار کی بہتری‘ جدید تدریسی طریقوں‘ مناسب تعلیمی سہولیات اور طلبہ کی عملی مہارتوں پر یکساں توجہ دے۔ بچوں پر بھاری بستوں کا بوجھ کم کرنا یقینا ضروری ہے مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ان کے ذہنوں پر رٹے کا بوجھ کم کرکے انہیں سوچنے‘ سمجھنے‘ سوال کرنے‘ تحقیق کرنے اور عملی مسائل حل کرنے کے قابل بنایا جائے۔