اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

موسمیاتی بحران

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران موسمیاتی آفات سے چار کروڑ سے زائد پاکستانی متاثر ہوئے‘ جن میں چھ ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ملکی معیشت کو بھی بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یہ اعداد و شمار ایسے موقع پر عوام کے سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر ایل نینو کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے امکانات زیرِ بحث ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ میں فروری 2027ء تک شدید گرمی کے باعث دنیا بھر میں چار لاکھ 51 ہزار سے زائد اضافی اموات کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان ایل نینو سے شدید متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے‘ اس لیے یہاں کسی بھی بڑے موسمیاتی تغیر کے اثرات کو معمولی سمجھنا دانش مندی نہیں۔ ملکِ عزیز موسمیاتی تبدیلی سے بیک وقت کئی طرح سے متاثر ہے۔

ہر سال بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے‘ گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ سے فلیش فلڈز کا خطرہ رہتا ہے جبکہ طویل مدت میں گلیشیرز کے سکڑنے سے پانی کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔ زراعت بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ غیر معمولی گرمی‘ پانی کی قلت‘ بے وقت بارشیں اور سیلاب فصلوں کی پیداوار متاثر کرتے ہیں جسکے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں اور غذائی تحفظ کے مسائل سنگین ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ان ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی  ضروری ہے۔ حکومت عالمی موسمیاتی تبدیلی کو اکیلے نہیں روک سکتی لیکن بہتر منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم ضرور کر سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں