دہشت گردی کے چیلنجز
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات قومی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہیں۔ گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس چوکی پر خود کش حملے میں 12افراد شہید ہوگئے۔ اسی روز بلوچستان کے ضلع دُکی میں سڑک تعمیر کرنے و الی ایک کمپنی کے کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے میں 18 مزدوروں کو اغوا کرلیا گیا جبکہ گزشتہ ہفتے کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد میں دہشت گردی کے واقعے میں25افراد شہید ہو گئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے سبھی واقعات کے سرے افغانستان سے ملتے ہیں جبکہ پاکستان میں خودکش حملوں کے 80 فیصد واقعات میں افغان شہری ملوث پائے جاتے ہیں۔ افغانستان سے پاکستان کو دہشت گردی کے خطرات ماضی میں بھی لاحق رہے ہیں مگر 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا‘ جس کا واضح سبب یہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو طالبان حکومت کی سرپرستی اورسہولت کاری حاصل ہے۔پاکستان بارہا افغانستان سے مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور طالبان حکومت دوحہ معاہدے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھی افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کو اجاگر کیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے حالیہ خطاب میں جہاں دیگر علاقائی اور عالمی معاملات پر گفتگو کی وہیں افغانستان کی جانب سے درپیش دہشت گردی کے خطرات کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور دنیا کو بتایا کہ افغانستان کی سرزمین فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے زیراستعمال ہے‘یہ بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیاں کرتے ہیں۔اس صورتحال کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہیے اور افغان حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ افغان سرزمین دوبارہ کبھی پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی نیویارک میں ای سی او کے غیر رسمی وزارتی اجلاس میں کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی علاقائی امن اور ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے طالبان حکومت سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیوں کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کی افغانستان سے یہ توقع غیر معمولی نہیں بلکہ بنیادی سکیورٹی اصولوں کے مطابق ہے۔
کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ پُرامن اور مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے۔ طالبان حکومت اگر پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے کیلئے فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی‘فتنہ الہندستان بی ایل اے اور دیگر وابستہ گروہوں کے خلاف مؤثر‘ ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائیاںکرتی ہے تو اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید کی سکتی ہے اور تجارتی روابط جن کا کھلنا افغانستان کے مفاد میں ہے ‘ بحال ہونے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ان حالات میں جب افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات شدت اختیار کر چکے ہیں پاکستان کو ایک طرف اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات جاری رکھنے چاہئیں اور دوسری طرف عالمی سطح پر شواہد پر مبنی سفارتی مہم مزید تیز کرنی چاہیے۔ پاکستان کا بنیادی اور اصولی مطالبہ واضح ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی بند ہو‘ دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی ہو اور خطے کو امن‘ تجارت اور ترقی کا راستہ دیا جائے۔