بڑھتا تجارتی خسارہ
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کا تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 15 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 10 ارب 79 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا‘ جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9 ارب 37 کروڑ ڈالر تھا۔ اگرچہ ان تین مہینوں میں برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا مگر اس دوران درآمدات میں ہونے والا تقریباً 13فیصد اضافہ برآمدات کی رفتار پر بھاری پڑ گیا۔ اس صورتحال کو صرف درآمدات میں اضافے کی حد تک محدود کرکے دیکھنا مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ ملکی درآمدات میں ایندھن‘ مشینری‘ صنعتی خام مال اور دیگر کئی ایسی اشیا شامل ہوتی ہیں جو معیشت کی پیداواری سرگرمی کیلئے ضروری ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری برآمدی صلاحیت مطلوبہ رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔

اس کمزوری کے پیچھے کئی ساختی عوامل موجود ہیں۔ سٹیٹ بینک ملکی برآمدات کے مسائل میں کم پیداواری صلاحیت‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ عالمی ویلیو چینز سے کمزور انضمام اور مصنوعات و منڈیوں میں محدود تنوع کی نشاندہی کر چکا ہے۔ چنانچہ حکومت کو تجارتی خسارے میں کمی کیلئے برآمدات میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہو گا جس کیلئے توانائی کی مسابقتی قیمت‘ بلاتعطل فراہمی‘ خام مال کی آسان دستیابی‘ ٹیکس اور ریفنڈ کا سادہ نظام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔