اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی میں متواتر اضافہ

حکومتی دعووں کے باوجود مہنگائی میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یکم اکتوبر کو ختم ہونیوالے کاروباری ہفتے میں 20اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوئیں جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 11.53 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہانہ رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران افراطِ زر کی شرح 10.3 فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ستمبر میں چند غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی ہوئی لیکن بجلی‘ ایندھن‘ ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے گھر یلو بجٹ پر براہِ راست دباؤ پڑنے کے ساتھ کاروبار‘ نقل و حمل اور اشیائے خورونوش کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے پالیسی سازی میں بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔

توانائی مہنگی ہوگی تو ٹرانسپورٹ‘ زرعی پیداوار‘ کولڈ سٹوریج‘ صنعت اور دکان تک اشیا پہنچانے کی لاگت بھی بڑھے گی‘ اور بالآخر اس کا بوجھ صارف پر منتقل ہوگا۔ چنانچہ صرف کسی ایک شے کی قیمت کم کرنے یا عارضی سبسڈی دینے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کے اس پورے سلسلۂ اسباب کو دیکھا جائے۔ مہنگائی میں کمی کیلئے حکومت کو بجلی‘ گیس اور ایندھن کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ترسیل و تقسیم کے غیر ضروری اخراجات میں بھی کمی یقینی بنانا ہو گی۔ اس کے ساتھ اجرتوں اور روزگار کے مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مہنگائی پر قابو پانے کا پائیدار راستہ پیداواری صلاحیت‘ روزگار اور حقیقی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں