سیاسی مفاہمت ہی واحد راستہ
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف معاشی بحران کی سنگینی ہے جو عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے اور دوسری طرف دہشتگردی کا عفریت ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔ ان دونوں چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے جس داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے‘ بدقسمتی سے ہمارا سیاسی نظام اس سے محروم نظر آ رہا ہے۔ اس پس منظر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور سیاسی جمود کو توڑنے کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے جب اپوزیشن کی جانب سے چار اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی گئی ہے۔ دیر آید درست آید کے مصداق سیاسی جماعتوں میں رابطہ کاری کا یہ سلسلہ بہرطور جاری رہنا چاہیے کیونکہ جمہوریت کی بقا کا راز مکالمے ہی میں پنہاں ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اس وقت جس گہرے سیاسی و سماجی بھنور میں پھنسا ہوا ہے اس سے نکلنے کا واحد‘ موزوں اور قابلِ عمل راستہ صرف سیاسی مفاہمت ہے۔ گزشتہ چار‘ پانچ برس سے ملک حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی رسہ کشی کے بیچ جھول رہا ہے جبکہ ڈیڑھ سال سے دونوں میں کسی قسم کی کوئی مذاکراتی بیٹھک بھی منعقد نہیں ہو سکی۔

اس دوران دونوں اطراف سے مذاکرات کی زبانی پیشکشیں تو کئی بار ہوئیں لیکن عملی طور پر برف پگھل نہ سکی اور تعطل برقرار رہا۔ اس طویل جمود نے نہ صرف پارلیمان کو مفلوج کیا بلکہ ریاستی اکائیوں کو بھی ایک مستقل تناؤ کی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ اب جبکہ فریقین نے میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذاکرات بذاتِ خود کوئی منزل نہیں بلکہ یہ اُس طویل سفر کا آغاز ہیں جس کا مقصد ملک میں سیاسی استحکام کا قیام ہے۔ یہاں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ فریقین میں پائی جانے والی بداعتمادی اب تک مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ اس خلیج کو یکلخت پُر کرنا ممکن نہیں لیکن بات چیت جاری رہنے سے کوئی ایسی راہ ضرور نکل سکتی ہے جو نظری اختلافات کو دور کر سکے۔ سیاستدانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا اور برداشت کرنے کا حوصلہ ہی سیاست اور جمہوریت کا حقیقی حسن ہے۔ اگر ایک دوسرے کو سیاسی منظرنامے سے مٹانے کی ضد برقرار رہی تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کا ہوگا۔
آج سب سے بڑا چیلنج معاشی استحکام کا حصول ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں‘ دوست ممالک کی معاونت اور سخت معاشی فیصلوں کے باوجود سرمایہ کار اُس وقت تک پاکستان کا رخ نہیں کریں گے جب تک انہیں مستقبل کی سیاسی سمت واضح نظر نہیں آئے گی۔ اسی طرح دہشتگردی کے خلاف ایک متفقہ قومی بیانیے کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں اپنی جگہ‘ تاہم جب تک ملک کی تمام سیاسی قیادت ایک پیج پر کھڑی ہو کر دہشتگردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار نہیں کرے گی‘ دشمن ہماری داخلی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتا رہے گا۔ ان دونوں محاذوں پر کامیابی کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے جائز آئینی و قانونی مطالبات کو تسلیم کرے اور اپوزیشن کو بھی یہ ادراک ہونا چاہیے کہ ضد اور انتشار کی سیاست کا حاصل ملک و قوم کے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
سیاسی قیادت کو اب ملک وقوم کے مستقبل کا سوچنا ہوگا۔ عوام مہنگائی‘ بیروزگاری اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال سے تنگ آ چکے ہیں اور اپنے سیاسی رہنماؤں کو آپس میں دست و گریبان دیکھنے کے بجائے مسائل کا حل ڈھونڈتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ آج اور آئندہ ہونے والے مذکراتی ادوار میں سنجیدگی‘ لچک اور قومی مفاد کو ذاتی و جماعتی مفاد پر ترجیح دی جائے تاکہ ملک کو اِس سیاسی و سماجی بھنور سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکے۔